صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ:
باب: مشترکہ غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 4325
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی (مشترکہ) غلام (کی ملکیت میں) سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے تو اس کی مصفانہ قیمت لگائی جائے گی اور اس کے شریکوں کو ان کے حصے دیے جائیں گے اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا ورنہ وہ اتنا ہی آزاد رہے گا جتنا پہلے ہو گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4325]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس قدر مال ہے جس سے غلام کی قیمت ادا ہو سکے، تو اس پر غلام کی عادلانہ، ٹھیک ٹھاک قیمت لگائی جائے گی اور وہ اپنے حصہ داروں کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کرے گا اور غلام اسی کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، ورنہ جس قدر آزاد کیا، اتنا ہی آزاد ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 4326
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی غلام (کی ملکیت میں) سے اپنا حصہ آزاد کیا، اگر اس کے پاس اتنا مال ہے جو اس کی قیمت کو پہنچتا ہے تو اس کی پوری آزادی اس پر (لازم) ہے۔ اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4326]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے مکمل آزادی بخشے، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جس سے غلام کی قیمت ادا ہو سکے، اگر اس کے پاس مال نہ ہو، تو اس نے جتنا حصہ آزاد کیا، اتنا حصہ آزاد ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4326]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 4327
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ قَدْرُ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ "،
جریر بن حازم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مولیٰ نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی (مشترکہ) غلام (کی ملکیت میں) سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنی مقدار میں مال ہے جو اس کی قیمت کو پہنچتا ہے، تو اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی (اور شریک کو اس کا حصہ ادا کر کے غلام اس کی طرف سے آزاد کیا جائے گا۔) ورنہ وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4327]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اور اس کے پاس اس قدر مال ہے، جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے، تو اس کے لیے عادلانہ قیمت لگائی جائے گی، وگرنہ اس نے جتنا آزاد کیا، اتنا ہی اس میں سے آزاد ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 4328
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ، إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، فَإِنَّهُمَا ذَكَرَا هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ، وَقَالَا: لَا نَدْرِي أَهُوَ شَيْءٌ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.
لیث بن سعد، یحییٰ بن سعید، ایوب، اسماعیل بن امیہ، ابن ابی ذئب اور اسامہ بن زید سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی، ایوب اور یحییٰ بن سعید کی حدیث کے سوا ان میں سے کسی کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اور اگر اس کے پاس مال نہیں تو وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا۔“ اور انہی دونوں نے یہ جملہ کہا اور ان دونوں (ایوب اور یحییٰ) نے یہ بھی کہا: ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ حدیث کا حصہ ہے یا نافع نے اپنی طرف سے کہا ہے۔ اور لیث بن سعد کی حدیث کے سوا ان میں سے کسی کی روایت میں سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4328]
مصنف اپنے آٹھ اساتذہ کی سات سندوں سے نافع رحمہ اللہ ہی کے واسطہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، ان میں سے کسی کی حدیث میں سوائے ایوب اور یحییٰ بن سعید رحمہما اللہ کی حدیث کے یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس سے آزاد ہو گیا، جس قدر اس نے آزاد کیا۔“ اور وہ دونوں بھی یہ کہتے ہیں: ہمیں معلوم نہیں ہے یہ کلام حدیث کا حصہ ہے، یا نافع رحمہ اللہ نے اپنی طرف سے کہا تھا، اور ان میں سے کسی حدیث میں بھی سوائے لیث بن سعد رحمہ اللہ کی حدیث کے یہ نہیں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 4329
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، ثُمَّ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ مُوسِرًا ".
عمرو نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے اور کسی دوسرے کے درمیان مشترک غلام کو آزاد کیا تو کمی بیشی کے بغیر اس کے مال میں سے (غلام کی) منصفانہ قیمت لگائی جائے گی، پھر اگر وہ خوش حال ہوا تو وہ اس کے مال سے اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4329]
حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا غلام آزاد کیا، جو اس کے اور دوسرے فرد کے درمیان مشترک تھا، تو اس کی خاطر، اس کے مال سے منصفانہ ٹھیک ٹھیک قیمت لگائی جائے گی، نہ کم نہ زیادہ، پھر وہ اس کی طرف سے اس کے مال سے آزاد ہو جائے گا، اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 4330
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ".
زہری نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام (کی ملکیت میں) سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کا باقی حصہ بھی اس کے مال سے آزاد ہو گا، بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4330]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اس کے مال سے باقی بھی آزاد ہو جائے گا، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ سکے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1502 ترقیم شاملہ: -- 4331
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا "، قَالَ: يَضْمَنُ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نضر بن انس سے، انہوں نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارے میں جن میں سے ایک (اپنا حصہ) آزاد کر دیتا ہے، فرمایا: ”وہ (دوسرے کا) ضامن ہے۔ (کہ اس کے حصے کی قیمت اسے مل جائے گی۔)“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4331]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مملوک کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک اسے آزاد کر دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خود ذمہ دار ہے۔“ یعنی آزادی دینے والا اگر مال دار ہے تو وہ باقی کو آزاد کرنے کا ذمہ دار ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4331]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1503 ترقیم شاملہ: -- 4332
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكٍ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِهِ.
عبیداللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، آپ نے فرمایا: ”جس نے غلام (کی ملکیت) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو وہ اسی کے مال سے (پورا) آزاد ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4332]
امام صاحب ہی ایک دوسرے استاد سے مذکورہ بالا شعبہ کی سند سے روایت بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مملوک میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، تو وہ اس کے مال سے آزاد ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4332]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1503 ترقیم شاملہ: -- 4333
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ "،
اسماعیل بن ابراہیم نے ابن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے نضر بن انس سے، انہوں نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس نے غلام (کی ملکیت) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا، اگر اس کے پاس مال ہے تو اس کی (پوری) آزادی اسی کے مال کے ذریعے سے ہو گی اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو کسی جبری مشقت میں ڈالے بغیر اس غلام سے (بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لیے) کام کروایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4333]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، تو اس کو نجات و خلاصی اس کے مال کے ذریعے ملے گی اگر اس کے پاس مال ہوا، اور اگر آزاد کرنے والے کے پاس مال نہ ہوا، تو غلام سے محنت و مزدوری کروائی جائے گی، لیکن اس کو مشقت میں مبتلا نہیں کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4333]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1503 ترقیم شاملہ: -- 4334
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ.
علی بن مسہر، محمد بن بشر اور عیسیٰ بن یونس سب نے ابن ابی عروبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عیسیٰ کی حدیث میں ہے: ”اسے کسی مشقت میں ڈالے بغیر، اس شخص کے حصے (کی ادائیگی) کے لیے کام لیا جائے گا جس نے آزاد نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4334]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے ابن عروبہ کی مذکورہ بالا سند ہی کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں، عیسیٰ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”پھر جس نے آزادی نہیں دی، اس کے حصے میں اس سے مشقت میں ڈالے بغیر محنت و مزدوری کروائی جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4334]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة