صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
78. باب في قوله عليه السلام: «نور انى اراه». وفي قوله: «رايت نورا»:
باب: اس بات کا بیان کہ یہ فرمانا وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں اور یہ فرمان کہ میں نے نور دیکھا۔
ترقیم عبدالباقی: 178 ترقیم شاملہ: -- 443
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ ".
یزید بن ابراہیم نے قتادہ سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟“ آپ نے جواب دیا: ”وہ نور ہے، میں اسے کہاں سے دیکھوں!“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 443]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 443]
ترقیم فوادعبدالباقی: 178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في تفسير القرآن، باب: ومن سورة النجم وقال: هذا حدیث حسن برقم (3282) انظر ((التحفة)) برقم (11938)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 178 ترقیم شاملہ: -- 444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ، هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قَدْ سَأَلْتُ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ نُورًا ".
ہشام اور ہمام دونوں نے دو مختلف سندوں کے ساتھ قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ سے سوال کرتا۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم ان سے کس چیز کے بارے میں سوال کرتے؟“ عبداللہ بن شقیق نے کہا: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے آپ سے (یہی) سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ’میں نے نور دیکھا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 444]
حضرت عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ سے پوچھتا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ سے کس چیز کے بارے میں سوال کرتا؟ عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ نے کہا: میں آپ سے سوال کرتا: کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پوچھ چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے نور دیکھا ہے۔“ یعنی میں نے بس نور دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 444]
ترقیم فوادعبدالباقی: 178
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (442)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة