صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب غزوة الاحزاب وهي الخندق:
باب: غزوہ احزاب یعنی جنگ خندق کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1805 ترقیم شاملہ: -- 4673
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَالْمُهَاجِرَهْ ".
معاویہ بن قرہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں، تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4673]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے، سو تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4673]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1805 ترقیم شاملہ: -- 4674
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ "، قَالَ شُعْبَةُ، أَوَ قَالَ: " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ، وَالْمُهَاجِرَهْ ".
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے اللہ! بےشک زندگی آخرت کی زندگی ہے۔“ شعبہ نے کہا: یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی (حقیقی) نہیں، تو انصار اور مہاجرین کو عزت عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4674]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! زندگی، آخرت ہی کی زندگی ہے“، شعبہ نے کہا، یا یوں کہا: ”اے اللہ! زندگی نہیں، مگر آخرت کی زندگی، سو تو انصار اور مہاجرین کو عزت سے نواز۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4674]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1805 ترقیم شاملہ: -- 4675
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ شَيْبَانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم معهم وهم، يقولون: " اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ، وَالْمُهَاجِرَهْ "، وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ: فَاغْفِرْ.
یحییٰ بن یحییٰ اور شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث بیان کی، یحییٰ نے کہا: ہمیں عدالوارث نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: صحابہ رجزیہ اشعار پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ساتھ دیتے تھے، وہ کہتے تھے: ”اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔“ شیبان کی حدیث میں ”مدد فرما“ کی جگہ ”مغفرت فرما“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4675]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں یہ رجز پڑھتے تھے: ”اے اللہ! بھلائی تو بس آخرت کی بھلائی ہے، سو تو انصار اور مہاجروں کی نصرت فرما۔“ اور شیبہ کی روایت میں «فَانْصُرْ» ”سو تو نصرت فرما“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4675]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1805 ترقیم شاملہ: -- 4676
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانُوا يَقُولُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا، أَوَ قَالَ: عَلَى الْجِهَادِ، شَكَّ حَمَّادٌ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَالمُهَاجِرَهْ ".
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ خندق کے دن محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے صحابہ کہہ رہے تھے: ”ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام پر زندگی بھر کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔“ یا کہا: جہاد پر۔۔ حماد کو شک ہوا ہے۔۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے اللہ! اصل بھلائی، آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4676]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خندق کے دن کہہ رہے تھے: ”ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر تاحیات بیعت کی ہے“، حماد کو شک ہے کہ شاید «عَلَى الْإِسْلَامِ» ”اسلام پر“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4676]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة