🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 475
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْن الْجَحْدَرِيُّ ومُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ، وقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السّلامُ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْخَلْقِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ، قَالَ: فَيَأْتُونَ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا، قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَأْتُونِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي، فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ، وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، قُلْ: تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ، أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ، قُلْ: تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجَهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ، قَالَ: فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ "، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ قَتَادَةُ: أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ.
ابوکامل فضیل بن حسین جحدری اور محمد بن عبید غبری نے کہا: (الفاظ ابوکامل کے ہیں) ہمیں ابوعوانہ نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور وہ اس بات پر فکر مند ہوں گے (کہ اس دن کی سختیوں سے کیسے نجات پائی جائے؟) (ابن عبید نے کہا: ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی) اور وہ کہیں گے: ’اگر ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارش لائیں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ (کی سختیوں) سے راحت عطا کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: ’اے آدم! آپ تمام مخلوق کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں کہ وہ ہمیں اس (اذیت ناک) جگہ سے راحت دے۔‘ وہ جواب دیں گے: ’میں اس مقام پر نہیں،‘ پھر وہ اپنی غلطی کو، جو ان سے ہو گئی تھی، یاد کر کے اس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے، (اور کہیں گے:) ’لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (لوگوں کی طرف) مبعوث فرمایا۔‘ آپ نے فرمایا: تو اس پر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ کہیں گے: ’یہ میرا مقام نہیں،‘ اور وہ اپنی غلطی کو، جس کا ارتکاب ان سے ہو گیا تھا، یاد کر کے اس پر اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے، (اور کہیں گے:) ’لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل (خالص دوست) بنایا ہے۔‘ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: ’یہ میرا مقام نہیں،‘ اور وہ اپنی غلطی کو یاد کریں گے جو ان سے سرزد ہو گئی تھی اور اس پر اپنے رب سے شرمندہ ہوں گے، (اور کہیں گے:) ’لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور انہیں تورات عنایت کی۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، وہ کہیں گے: ’میں اس مقام پر نہیں،‘ اور اپنی غلطی کو، جو ان سے ہو گئی تھی، یاد کر کے اس پر اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے (اور کہیں گے:) ’لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو روح اللہ اور اس کے کلمے ہیں۔‘ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ (بھی یہ) کہیں گے: ’یہ میرا مقام نہیں، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ ایسے برگزیدہ عبد(بندے) ہیں جن کے اگلے پچھلے گناہ (اگر ہوتے تو بھی) معاف کیے جا چکے۔‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ میرے پاس آئیں گے، میں اپنے رب (کے پاس حاضری) کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی، اسے دیکھتے ہی میں سجدے میں گر جاؤں گا، تو جب تک اللہ چاہے گا مجھے اس حالت (سجدہ) میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، کہیے: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے: آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجیے: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب تعالیٰ کی ایسی حمد و ستائش بیان کروں گا جو میرا رب عز وجل خود مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا۔ وہ میرے لیے حد مقرر کر دے گا، میں (اس کے مطابق) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، پھر میں واپس آکر سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا، پھر کہا جائے گا: ’اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھائیے، کہیے: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے: آپ کو ملے گا، سفارش کیجیے: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جو میرا رب مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا تو وہ میرے لیے پھر ایک حد مقرر فرما دے گا، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد نہیں، آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا) پھر میں کہوں گا: اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں بچا جنہیں قرآن نے روک لیا ہے، یعنی جن کا (دوزخ میں) ہمیشہ رہنا (اللہ کی طرف سے) لازمی ہو گیا ہے۔ ابن عبید نے اپنی روایت میں کہا: قتادہ نے کہا: یعنی جس کا ہمیشہ رہنا لازمی ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 475]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا، اور وہ اس کے لیے فکر مند ہوں گے۔ (کہ اس پریشانی سے کیسے نجات پائی جائے) ابن عبید رحمہ اللہ نے کہا: اس غرض کے لیے (فکر) ان کے دل میں ڈالا جائے گا، تو وہ کہیں گے: اے کاش! ہم اپنے رب کے حضور کسی سفارشی کو لائیں؛ تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے آرام دلوائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم علیہ السلام ہیں! تمام مخلوق کے باپ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور تیرے اندر اپنی روح ڈالی (یعنی اپنی پیدا کردہ روح)، اور فرشتوں کو حکم دیا، انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں، کہ وہ ہمیں اس جگہ سے (اس جگہ کی تکلیف سے) آرام پہنچائے۔ تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا منصب نہیں (میں اس کے اہل نہیں)، تو وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا (یا اس کو بیان کر کے) اس کی بناء پر اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! وہ پہلا رسول ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ جواب دیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، اور وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا، اس کو یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور (کہیں گے) تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! جسے اللہ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔ تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے اور وہ اپنی خطا کو یاد کریں گے جو ان سے ہوئی تھی، اور اس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! جن کو اللہ تعالیٰ نے کلام کرنے کا شرف بخشا، اور انہیں تورات عنایت کی۔ تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، تو وہ بھی کہیں گے: میں اس کا حق دار نہیں، اور اپنی خطا جو ان سے ہوئی تھی یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم عیسیٰ روح اللہ اور اس کے کلمہ کے پاس جاؤ! تو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ بھی یہی کہیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! جو ایسا بندہ ہے، جس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ میرے پاس آئیں گے، تو میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا، (تاکہ میں سفارش کر سکوں) تو مجھے اجازت دی جائے گی، تو جب میں اسے (اللہ تعالیٰ کو) دیکھوں گا، سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو جب تک وہ چاہے گا مجھے اس حالت میں چھوڑے گا، پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے! کہیے! آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے! دیے جاؤ گے، سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھا لوں گا، اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا، جو میرا رب (اس وقت) سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں (اسی حد کے مطابق) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، پھر واپس آکر میں سجدہ ریز ہوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، اس حالت میں رہنے دے گا، پھر کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے اے محمد! کہیے! تمہاری بات سنی جائے گی۔ مانگیے! دیے جاؤ گے۔ سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا، جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا، تو وہ میرے لیے ایک حد مقرر کر دے گا، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یاد نہیں آپ نے تیسری یا چوتھی دفعہ فرمایا: تو میں کہوں گا: اے میرے رب! آگ میں صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے، یعنی جن کے لیے دوزخ میں ہمیشگی ثابت ہے۔ ابن عبید رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں کہا: قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: جس کا ہمیشہ رہنا ضروری ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 475]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6565) انظر ((التحفة)) برقم (4136)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 476
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ومُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِكَ، أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِكَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ، أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ.
دوسری سند سے جس میں (ابوعوانہ کے بجائے) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس (کی ہولناکیوں سے بچنے) کی فکر میں مبتلا ہوں گے یا یہ بات ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی۔ .... (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے، البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ کہا: پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا (یا چوتھی بار لوٹوں گا) اور کہوں گا: ’اے میرے رب! ان کے سوا جنہیں قرآن (کے فیصلے) نے روک رکھا ہے اور کوئی باقی نہیں بچا۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 476]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے، اور اس (پریشانی سے بچنے کی) فکر کریں گے، یا انہیں اس فکر کا الہام ہوگا۔ جیسا کہ اوپر ابو عوانہ رحمہ اللہ کی حدیث گزری ہے، اور اس حدیث میں ہے: پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا، یا چوتھی بار لوٹوں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں، جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 476]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في التفسير، باب: قول الله ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ برقم (4476) مطولا - وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4312) انظر ((التحفة)) برقم (1171)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 477
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَذَكَرَ فِي الرَّابِعَةِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ.
معاذ بن ہشام نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا، پھر اس (دن کی پریشانی سے بچنے) کے لیے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی۔ .... یہ حدیث بھی ان دونوں (ابوعوانہ اور سعید) کی حدیث کی طرح ہے، چوتھی دفعہ کے بارے میں یہ کہا: تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں جسے قرآن (کے فیصلے) نے روک لیا ہے، یعنی جس کے لیے (آگ میں) ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 477]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا، پھر اس دن کی پریشانی سے بچنے کے لیے الہام ہوگا۔ یہ حدیث (ہشام رحمہ اللہ کی) بھی ان دونوں (ابو عوانہ رحمہ اللہ اور سعید رحمہ اللہ) کی طرح ہے۔ چوتھی کے بارے میں یہ بتایا: تو میں کہوں گا: اے میرے رب! آگ میں صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں، جنہیں قرآن کے فیصلے کے مطابق روک لیا گیا ہے، یعنی جن کے لیے ہمیشگی ثابت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 477]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: قول الله ﴿ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ﴾ مطولا وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ مطولا برقم (7410) وفى، باب: ما جاء في قول الله تعالى ﴿ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ برقم (7450) و من، باب: ما جاء في قوله عز وجل ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (7516) انظر ((التحفة)) برقم (1357)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 478
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ منَ النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، مَنْ قَال: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً "، زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ، جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ، ذُرَةً، قَالَ يَزِيدُ: صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَام.
محمد بن منہال الضریر نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ اور دستوائی نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ....، اسی طرح ابوغسان مسمعی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو آگ سے نکال لیا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے وزن کے برابر خیر ہوئی، پھر ایسے شخص کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہوئی، پھر اس کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر ہوئی۔ (گزشتہ متعدد احادیث سے وضاحت ہوتی ہے کہ خیر سے مراد ایمان ہے۔) ابن منہال نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ یزید نے کہا: میں شعبہ سے ملا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو شعبہ نے کہا: ہمیں یہ حدیث قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، البتہ شعبہ نے ایک ذرے کے بجائے مکئی کا دانہ کہا۔ یزید نے کہا: اس لفظ میں ابوبسطام (شعبہ) سے تصحیف (حروف میں اشتباہ کی وجہ سے غلطی) ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 478]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا، اور اس کے دل میں جو کے دانہ کے برابر خیر ہوگی اس کو دوزخ سے نکالا جائے گا، پھر آگ سے اس کو نکالا جائے گا، جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا، اور اس کے دل میں گندم کے دانہ کے برابر خیر ہوگی، پھر آگ سے وہ نکالا جائے گا، جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہوگی۔ ابن منہال رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یزید رحمہ اللہ سے یہ اضافہ کیا، کہ میں شعبہ رحمہ اللہ کو ملا اور اسے یہ حدیث سنائی، تو شعبہ رحمہ اللہ نے کہا، ہمیں یہی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، مگر شعبہ رحمہ اللہ نے ’ذَرَّةٌ‘ کی جگہ ’ذُرَّةٌ‘ کہا، یزید رحمہ اللہ نے کہا: اس لفظ میں ابو بسطام رحمہ اللہ (شعبہ) نے تصحیف کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 478]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((الايمان)) باب: زيادة الايمان ونقصانه برقم (44) وفي التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾ برقم (7410) والترمذي في ((جامعه)) في صفة جهنم، باب: ما جاء ان للنار نفسين وما ذكر من يخرج من الناس من اهل التوحيد برقم (2593) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4312) انظر ((التحفة)) برقم (11356 و 1194 و 1272)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 479
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَى، فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ، أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ لَهُ: اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ، فَيُؤْتَى مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيُؤتَى عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُوتَى، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: رَبِّ أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنَ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ، أَدْنَى، أَدْنَى، أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ "، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ، قَالَ: هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هِيَهِ، قُلْنَا: مَا زَادَنَا؟ قَالَ: قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ كَرِهَ، أَنْ يُحَدِّثَكُمْ فَتَتَّكِلُوا، قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِكَ، وَقَالَ: خُلِقَ الإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سورة الأنبياء آية 37 مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا، إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، أَوَ قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ، وَلَكِنْ، وَعِزَّتِي، وَكِبْرِيَائِي، وَعَظَمَتِي، وَجِبْرِيَائِي، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "، قَالَ: فَأَشْهَدُ عَلَى الْحَسَنِ ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُرَاهُ، قَالَ: قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً، وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ.
معبدبن ہلال عنزی نے کہا: ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت (البنانی) کو اپنا سفارشی بنایا (ان کے ذریعے سے ملاقات کی اجازت حاصل کی۔) ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لیے (اندر آنے کی) اجازت لی۔ ہم اندر ان کے سامنے حاضر ہوئے۔ انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ اپنی چارپائی پر بٹھا لیا۔ ثابت نے ان سے کہا: ’اے ابوحمزہ! بصرہ کے باشندوں میں سے آپ کے (یہ) بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ انہیں شفاعت کی حدیث سنائیں۔‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: ’اپنی اولاد کے حق میں سفارش کیجیے (کہ وہ میدان حشر کے مصائب اور جاں گسل انتظار سے نجات پائیں۔)‘ وہ کہیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کا دامن تھام لو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل (خالص دوست) ہیں۔‘ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جاؤ، وہ کلیم اللہ ہیں (جن سے اللہ نے براہ راست کلام کیا)۔‘ تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضری ہو گی۔ وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لگ جاؤ کیونکہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ تو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آمد ہو گی، وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جاؤ۔‘ تو (ان کی) آمد میرے پاس ہو گی۔ میں جواب دوں گا: ’اس (کام) کے لیے میں ہوں۔‘ میں چل پڑوں گا اور اپنے رب کے سامنے حاضری کی اجازت چاہوں گا، مجھے اجازت عطا کی جائے گی، میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا اور تعریف کی ایسی باتوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا جس پر میں اب قادر نہیں ہوں، اللہ تعالیٰ ہی یہ (حمد) میرے دل میں ڈالے گا، پھر میں اس کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے نکال لیں۔‘ میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر میں اپنے رب تعالیٰ کے حضور لوٹ آؤں گا اور حمد کے انہی اسلوبوں سے اس کی تعریف بیان کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا تو مجھے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ مجھے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، اسے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر اپنے رب کے حضور لوٹ آؤں گا اور اس جیسی تعریف سے اس کی حمد کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا۔ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم، اس سے (بھی) کم، اس سے (اور بھی) کم ایمان ہو اسے آگ سے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا۔ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو انہوں نے ہمیں بیان کی۔ (معبدبن ہلال عنزی نے) کہا: چنانچہ ہم ان کے ہاں سے نکل آئے، جب ہم چٹیل میدان کے بالائی حصے پر پہنچے تو ہم نے کہا: (کیا ہی اچھا ہو) اگر ہم حسن بصری کا رخ کریں اور انہیں سلام کرتے جائیں۔ وہ (حجاج بن یوسف کے ڈر سے) ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں سلام کیا۔ ہم نے کہا: ’جناب ابوسعید! ہم آپ کے بھائی ابوحمزہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کے پاس سے آرہے ہیں۔ ہم نے کبھی اس جیسی حدیث نہیں سنی جو انہوں نے شفاعت کے بارے میں ہمیں سنائی۔‘ حسن بصری نے کہا: ’لائیں، سنائیں۔‘ ہم نے انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: ’آگے سنائیں۔‘ ہم نے کہا: ’انہوں نے ہمیں اس سے زیادہ نہیں سنایا۔‘ انہوں (حسن بصری) نے کہا: ’ہمیں انہوں نے یہ حدیث بیس برس پہلے سنائی تھی، اس وقت وہ پوری قوتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے کچھ حصہ چھوڑ دیا ہے، معلوم نہیں، شیخ بھول گئے یا انہوں نے تمہیں پوری حدیث سنانا پسند نہیں کیا کہ کہیں تم (اس میں بیان کی ہوئی بات ہی پر) بھروسا نہ کر لو۔‘ ہم نے عرض کی: ’آپ ہمیں سنا دیں۔‘ تو وہ ہنس پڑے اور کہا: «إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا» انسان جلدباز پیدا کیا گیا ہے، میں نے تمہارے سامنے اس بات کا تذکرہ اس کے سوا (اور کسی وجہ سے) نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ میں تمہیں یہ حدیث سنانا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں چوتھی بار اپنے رب کی طرف لوٹوں گا، پھر انہی تعریفوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! مجھے ان کے بارے میں (بھی) اجازت دیجیے جنہوں نے (صرف) ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘ اللہ فرمائے گا: ’یہ آپ کے لیے نہیں لیکن میری عزت کی قسم، میری کبریائی، میری عظمت اور میری بڑائی کی قسم! میں ان کو (بھی) جہنم سے نکال لوں گا جنہوں نے ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘ معبدکا بیان ہے: میں حسن بصری کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت سنی۔ میرا خیال ہے، انہوں نے کہا: بیس سال پہلے، اور اس وقت ان کی صلاحتیں بھرپور تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 479]
معبد بن ہلال عنزی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سفارش کے لیے ثابت رحمہ اللہ کو ساتھ لیا۔ تو ہم ان کے پاس اس وقت پہنچے، جب وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت رحمہ اللہ نے ہمیں اجازت لے کر دی، تو ہم اندر ان کے پاس گئے۔ انہوں نے ثابت رحمہ اللہ کو اپنے ساتھ اپنی چارپائی پر بٹھا لیا، تو ثابت رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا: اے ابو حمزہ! آپ کے بصری بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں، کہ آپ انہیں شفاعت کے بارے میں حدیث سنائیں! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: جب قیامت کا دن ہوگا (گھبراہٹ کی بنا پر) لوگ ایک دوسرے میں گھسیں گے، تو (سوچ بچار کے بعد) پہلے آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور ان سے عرض کریں گے: اپنی اولاد کے حق میں سفارش کیجیے (کہ وہ میدان محشر کے مصائب سے نجات پائیں حساب کتاب شروع ہو) تو وہ جواب دیں گے: میں اس کا حق دار نہیں، لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ تو لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا حق نہیں ہے۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس جایا جائے گا، تو وہ فرمائیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! کیونکہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہیں۔ تو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جایا جائے گا، تو وہ فرمائیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! تو میرے پاس آیا جائے گا۔ تو میں جواب دوں گا: یہ میرا منصب ہے (میں اس کا اہل ہوں) میں چلوں گا اور اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا، تو مجھے اجازت مل جائے گی۔ تو میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں گا اور اس کی ایسی خوبیوں سے تعریف کروں گا جن کے بیان کی اب مجھ میں قدرت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا مجھے الہام کرے گا، پھر میں اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا، تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو! تیری بات سنی جائے گی۔ مانگو! دیے جاؤ گے، سفارش کرو! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں عرض کروں گا میرے رب! میری امت! میری امت! تو کہا جائے گا: جاؤ! جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہے، تم اسے نکال کر لاؤ۔ میں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا، پھر اپنے رب کی طرف لوٹوں گا اور ان ہی تعریفات و خوبیوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا، تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ! کہو! تیری بات سنی جائے گی، مانگو! دیے جاؤ گے۔ سفارش کرو! تمہاری سفارش قبول ہو گی۔ تو میں عرض کروں گا: میری امت! میری امت! تو مجھے کہا جائے گا: جائیے! جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، اسے نکال لائیے! تو میں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا۔ پھر اپنے رب کی طرف لوٹ آؤں گا، تو ان ہی خوبیوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے! کہیے! تیری بات سنی جائے گی، مانگیے! تمہیں ملے گا، سفارش کیجیے! آپ کی سفارش قبول ہو گی۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! تو مجھے کہا جائے گا: چلیے جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم، بہت ہی کم ایمان ہو اسے آگ سے نکال لائیے! تو میں جاؤں گا، اور یہ کام کروں گا۔ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، جو انہوں نے ہمیں سنائی، تو ہم ان کے ہاں سے نکل آئے۔ جب ہم صحراء میں آئے، تو ہم نے کہا اے کاش! ہم حسن بصری رحمہ اللہ کا رخ کریں اور انہیں سلام کرتے جائیں۔ اور وہ (حجاج بن یوسف کے ڈر سے) ابو خلیفہ کے گھر چھپے ہوئے تھے۔ ہم ان کے پاس پہنچے، انہیں سلام عرض کیا، اور ہم نے عرض کیا: اے ابو سعید! (حسن بصری رحمہ اللہ کی کنیت ہے) ہم آپ کے بھائی ابو حمزہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کے پاس سے آ رہے ہیں، انہوں نے ہمیں شفاعت کے بارے میں جو حدیث سنائی ہے، اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: سنائیے! ہم نے اسے حدیث سنائی، تو اس نے کہا: آگے بیان کیجیے! ہم نے کہا: اس سے زیادہ انہوں نے ہمیں نہیں سنائی۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: انہوں نے یہ حدیث ہمیں بیس برس پہلے سنائی تھی، جب کہ وہ اس وقت بھر پور جوان تھے۔ (ان کے قویٰ مضبوط تھے) انہوں نے کچھ چھوڑ دیا ہے۔ میں نہیں جانتا استاد صاحب بھول گئے ہیں، یا انہوں نے تمہیں پوری حدیث سنانا پسند نہیں کیا، کہ کہیں تم اس پر بھروسہ نہ کر لو۔ (اور نیک اعمال کرنا ترک کر دو) ہم نے عرض کیا: آپ ہمیں سنا دیں! تو وہ ہنس پڑے اور کہا: انسان جلد باز پیدا ہوا ہے۔ میں نے تمہارے سامنے اس کا تذکرہ اس لیے کیا ہے، کہ میں تمہیں سنانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں اپنے رب عز و جل کی خدمت میں چوتھی بار حاضر ہوں گا، ان ہی تعریفات سے اس کی تعریف کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا، تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو! تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو! تمہیں ملے گا، سفارش کرو! آپ کی سفارش قبول ہوگی۔ تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! مجھے ان کے بارے میں اجازت دیجیے، جنہوں نے صرف ’لا إله إلا الله‘ کہا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ آپ کا مقام نہیں ہے، یا آپ اس کے حق دار نہیں، لیکن میری عزت، کبریائی، میری عظمت اور میری قوت و جبروت کی قسم! میں ان کو نکال کر رہوں گا، جنہوں نے ’لا إله إلا الله‘ کہا ہے۔ راوی کا بیان ہے: میں حسن بصری رحمہ اللہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ اس نے ہمیں بتایا، کہ اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت سنی ہے، میرا خیال ہے، اس نے کہا، بیس سال پہلے جب کہ ان کے قویٰ مجتمع تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 479]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التوحيد، باب: كلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الانبياء، وغيرهم برقم (7510) انظر ((التحفة)) برقم (523 و 1599)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں