🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب الوفاء ببيعة الخلفاء الاول فالاول:
باب: جس خلیفہ سے پہلے بیعت ہو اسی کو قائم رکھنا چاہیئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1844 ترقیم شاملہ: -- 4776
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا، وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ، وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ، فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ، وَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَاللَّهُ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29، قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ "،
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ سے روایت بیان کی، کہا: میں مسجد حرام میں داخل ہوا تو وہاں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں نے ان پر جمگھٹا لگا رکھا تھا، میں بھی لوگوں میں آ کر ان کے قریب بیٹھ گیا، تو انہوں (عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے بتایا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا، تو ہم میں سے کچھ اپنا خیمہ درست کرنے لگے، اور ہم سے کچھ تیر اندازی میں مشغول ہو گئے اور بعض اپنے چرنے والے مویشیوں کے ساتھ ٹھہر گئے، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی، نماز تیار ہے، آ جاؤ، تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واقعہ یہ ہے، مجھ سے پہلے ہر نبی پر لازم تھا کہ وہ اپنی امت کی رہنمائی ہر اس خیر کی طرف کرے، جو ان کے حق میں جانتا ہو یعنی اپنے علم کے مطابق ہر خیر سے انہیں آگاہ کرے اور ان کو ہر اس شر سے ڈرائے، جو ان کے بارے میں جانتا ہو اور تمہاری اس امت کے پہلے لوگوں میں سلامتی ہے اور اس کے بعد والے لوگوں کو مصائب میں مبتلا ہونا پڑے گا اور ایسی باتیں ہوں گی جن کو تم برا سمجھو گے اور ایسی آزمائشیں آئیں گی جو ایک دوسرے کو ہلکا بنا دیں گی، ایک فتنہ آئے گا اور مومن کہے گا، یہ تو ہلاک کر کے ہی چھوڑے گا، تو جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اسے آگ سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو اسے اس کی موت اسی حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو سلوک ان سے اپنے بارے میں چاہتا ہے اور جس نے کسی امام کی بیعت کر لی اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور اپنے دل سے اس سے محبت کی تو جہاں تک اس سے ہو سکے، وہ اس کی اطاعت کرے اور اگر وہ دوسرا شخص اس کے مقابلہ میں آ کھڑا ہو تو دوسرے کی گردن اڑا دو۔ تو میں ان کے قریب ہوا اور ان سے پوچھا، میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کر کے کہا، میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا، تو میں نے ان سے کہا، یہ تیرا چچا زاد معاویہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طریقہ سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ، الا یہ کہ تمہاری رضا مندی سے باہمی تجارت (لین دین) ہو اور اپنے آپ کو (ایک دوسرے کو) قتل نہ کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے۔ (نساء، آیت نمبر 29) تو وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے کہ اللہ کی اطاعت کی صورت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی کے معاملے میں ان کی نافرمانی کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4776]
عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں پہنچا تو وہاں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے، میں بھی لوگوں میں آ کر ان کے قریب بیٹھ گیا، تو انہوں نے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما) بتایا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا، تو ہم میں سے کچھ اپنا خیمہ درست کرنے لگے، اور ہم میں سے کچھ تیر اندازی میں مشغول ہو گئے اور بعض اپنے چرنے والے مویشیوں کے ساتھ ٹھہر گئے، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» نماز تیار ہے، آ جاؤ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واقعہ یہ ہے، مجھ سے پہلے ہر نبی پر لازم تھا کہ وہ اپنی امت کی رہنمائی ہر اس خیر کی طرف کرے، جو ان کے حق میں جانتا ہو یعنی اپنے علم کے مطابق ہر خیر سے انہیں آگاہ کرے اور ان کو ہر اس شر سے ڈرائے، جو ان کے بارے میں جانتا ہو اور تمہاری اس امت کے پہلے لوگوں میں سلامتی رکھی گئی ہے اور اس کے بعد والے لوگوں کو مصائب میں مبتلا ہونا پڑے گا اور ایسی باتیں ہوں گی جن کو تم برا سمجھو گے اور ایسی آزمائشیں آئیں گی جو ایک دوسرے کو ہلکا بنا دیں گی، ایک فتنہ آئے گا اور مومن کہے گا، یہ تو ہلاک کر کے ہی چھوڑے گا، پھر وہ ٹل جائے گا اور دوسرا فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا کہ یہی میری ہلاکت ہے، تو جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اسے آگ سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو اسے اس کی موت اسی حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو سلوک وہ اپنے لیے ان سے چاہتا ہے اور جس نے کسی امام کی بیعت کر لی اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور اپنے دل سے اس سے محبت کی تو جہاں تک اس سے ہو سکے، وہ اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص اس کے مقابلہ میں (حکومت چھیننے کے لیے) آ کھڑا ہو تو اس دوسرے کی گردن اڑا دو۔ تو میں ان کے قریب ہوا اور ان سے پوچھا، میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کر کے کہا، میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا، تو میں نے ان سے کہا، یہ آپ کے چچازاد معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طریقے سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 29] اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ، الا یہ کہ تمہاری رضا مندی سے باہمی تجارت (لین دین) ہو اور اپنے آپ کو (ایک دوسرے کو) قتل نہ کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4776]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1844 ترقیم شاملہ: -- 4777
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ،
وکیع اور ابومعاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4777]
امام صاحب یہی روایت اپنے چار اساتذہ سے اعمش کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4777]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1844 ترقیم شاملہ: -- 4778
عامر نے عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ صائدی سے روایت کی، کہا: میں نے کعبہ کے پاس ایک مجمع دیکھا، پھر اعمش کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4778]
عبدالرحمٰن بن عبد رب الکعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک جماعت کعبہ کے پاس بیٹھی دیکھی، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4778]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1844
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں