صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب إباحة ميتات البحر:
باب: دریا کے مردے کا مباح ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 1935 ترقیم شاملہ: -- 4998
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً، قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا؟، قَالَ: نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ، فَنَأْكُلُهُ، قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ، فَإِذَا هِيَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا، قَالَ: فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، فَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا، فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟، فَتُطْعِمُونَا "، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ.
ابوزبیر نے حضرت جابر سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی امارت میں قریش کے ایک قافلے کو ملنے (یعنی ان کے پیچھے) اور ہمارے سفر خرچ کے لیے کھجور کا ایک تھیلہ دیا اور کچھ آپ کو نہ ملا کہ ہمیں دیتے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک ایک کھجور (ہر روز) دیا کرتے تھے۔ ابوزبیر نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم ایک کھجور میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو بچے کی طرح چوس لیا کرتے تھے، پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے، وہ ہمیں سارا دن اور رات کو کافی ہو جاتا اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے، پھر ان کو پانی میں تر کرتے اور کھاتے تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو وہاں ایک لمبی اور موٹی سی چیز نمودار ہوئی۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ مردار ہے (یعنی حرام ہے)۔ پھر کہنے لگے کہ نہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم (بھوک کی وجہ سے) مجبور ہو چکے ہو تو اس کو کھاؤ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے۔ اس کا گوشت کھاتے رہے، یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے کے گھڑے بھرتے تھے اور اس میں سے بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے۔ آخر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا، وہ سب اس کی آنکھ کے حلقے کے اندر بیٹھ گئے۔ اور اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی اٹھا کر کھڑی کی، پھر جو اونٹ ہمارے ساتھ تھے، ان میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھی تو وہ اس کے نیچے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں سے زاد راہ کے لیے وشائق بنا لیے (وشائق ابال کر خشک کیے ہوئے گوشت کو کہتے ہیں، جو سفر کے لیے رکھتے ہیں)۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا رزق تھا جو اس نے تمہارے لیے نکالا تھا۔ اب تمہارے پاس اس گوشت کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے اس کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4998]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1935 ترقیم شاملہ: -- 4999
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهَا حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَصَبَهُ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ جَمَلٍ، فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ فَمَرَّ تَحْتَهُ، قَالَ: وَجَلَسَ فِي حَجَاجِ عَيْنِهِ نَفَرٌ، قَالَ: وَأَخْرَجْنَا مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ كَذَا وَكَذَا قُلَّةَ وَدَكٍ، قَالَ: وَكَانَ مَعَنَا جِرَابٌ مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ " يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ ".
عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ ہمیں مہم پر روانہ فرمایا، ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں قریش کے قافلے کی گھات لگانا تھی، ہم (تقریباً) آدھا مہینہ ساحل سمندر پر ٹھہرے رہے، ہمیں شدید بھوک کا سامنا تھا، حتیٰ کہ ہم نے درختوں سے جھاڑے ہوئے پتے کھائے اور اس لشکر کا نام ”جھڑے ہوئے پتوں کا لشکر“ پڑ گیا، تو سمندر نے ہمارے لیے ایک جانور نکال کر پھینکا جس کو عنبر کہا جاتا ہے۔ ہم نصف ماہ تک اس کو کھاتے اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا، یہاں تک کہ ہمارے بدن اصل حالت میں لوٹ آئے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی (پیٹھ کا کانٹا) لے کر اسے نصب کرایا، پھر لشکر میں سب سے لمبا آدمی اور سب سے اونچا اونٹ ڈھونڈا اور اس آدمی کو اس پر سوار کیا، تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا۔ اور اس (عنبر) کی آنکھ کے حلقے میں ایک جماعت بیٹھ گئی۔ کہا: ہم نے اس کی آنکھ کے ڈھیلے سے اتنے اتنے مٹکے چربی نکالی۔ (سفر کے آغاز میں) ہمارے ساتھ ایک بورا (برابر) کھجوریں تھیں۔ (پہلے) ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک ایک مٹھی کھجور دیتے تھے، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے۔ جب (یہ بھی ملنا) بند ہو گئیں تو ہم نے سمجھ لیا کہ وہ ختم ہو گئی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4999]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ایک قافلے کی گھات لگانے کے لیے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، ہم ساحلِ سمندر پر پندرہ دن ٹھہرے، ہمیں شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ہم نے پتے جھاڑ کر کھائے، اسی لیے اس لشکر کو «جَيْشُ الْخَبَطِ» کا نام دیا گیا، پھر ہمارے لیے (سمندر نے) ایک جانور پھینک دیا جس کو «الْعَنْبَرُ» کہا جاتا تھا، ہم نے اس سے پندرہ دن (آدھا ماہ) کھایا اور بدن پر اس کا روغن ملا حتیٰ کہ ہمارے بدن اصل حالت پر لوٹ آئے، اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لے کر اس کو گاڑا، پھر لشکر میں سب سے لمبے آدمی اور سب سے لمبے اونٹ کا انتخاب کیا، اس کو اس (پسلی) کے نیچے سے گزارا اور اس کی آنکھ کے گڑھے میں کئی آدمی بیٹھ گئے اور ہم نے اس کی آنکھ کے گڑھے سے اتنے اتنے مٹکے چکنائی نکالی اور ہمارے پاس کھجوروں کا ایک چرمی تھیلا یا بورا تھا، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہر آدمی کو ایک ایک مٹھی کھجور دیتے تھے، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے، جب وہ بھی ختم ہو گئی، تو ہمیں اس کے نہ ملنے کا احساس ہوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1935 ترقیم شاملہ: -- 5000
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ 140، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا ، يَقُولُ: " فِي جَيْشِ الْخَبَطِ إِنَّ رَجُلًا نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ ".
عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو پتوں والے لشکر کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سنا کہ (جب زاد راہ ختم ہو گیا تو ابتدا میں) ایک دن ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین ذبح کیے، پھر تین ذبح کیے، اس کے بعد حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کر دیا (کہ سواری کے جانور ختم ہونے لگے تھے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5000]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، پتوں والے لشکر میں ایک آدمی نے تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین ذبح کیے، پھر تین ذبح کیے، پھر اسے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5000]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1935 ترقیم شاملہ: -- 5001
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا ".
ہشام بن عروہ نے وہب بن کیسان سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ایک مہم میں) روانہ کیا۔ اس وقت ہم تین سو تھے، ہم نے اپنا اپنا زاد راہ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ (اور آخر میں سب کا زاد راہ ملا کر ایک بورے کے برابر ہوا۔) [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5001]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین سو آدمیوں کو بھیجا، ہم اپنا زادِ راہ خود اٹھائے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5001]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1935 ترقیم شاملہ: -- 5002
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَفَنِيَ زَادُهُمْ، فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فِي مِزْوَدٍ، فَكَانَ يُقَوِّتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ ".
امام مالک بن انس نے ابونعیم وہب بن کیسان سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو کا ایک لشکر بھیجا اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر بنایا، ان کا زاد راہ ختم ہونے کو آیا تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سب کے زاد راہ کو زاد راہ والے ایک تھیلے میں جمع کیا اور ہم کو زندہ رہنے کی خوراک دیتے تھے، یہاں تک کہ آخر میں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5002]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو افراد کا ایک دستہ بھیجا اور ان کا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا، ان کا زاد راہ ختم ہو گیا تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ان کا اپنا اپنا زاد راہ ایک توشہ دان میں جمع کیا، وہ ہمیں خوراک دیتے تھے، حتیٰ کہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور ملنے لگی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5002]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1935 ترقیم شاملہ: -- 5003
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ وَسَاقُوا جَمِيعًا بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ، كَنَحْوِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، فَأَكَلَ مِنْهَا الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً.
ولید بن کثیر نے کہا: میں نے وہب بن کیسان کو کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی جانب ایک لشکر روانہ فرمایا، میں بھی اس لشکر میں تھا۔ جس طرح عمرو بن دینار اور ابوزبیر کی حدیث ہے، البتہ وہب بن کیسان کی روایت میں ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دن تک اس (بڑی مچھلی) کا گوشت کھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5003]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ساحل سمندر کی طرف بھیجا، میں بھی ان میں تھا، آگے عمرو بن دینار اور ابوزبیر کی طرح حدیث بیان کی، صرف اتنا فرق ہے کہ وہب بن کیسان کی اس حدیث میں ہے، اس سے لشکر نے 18 دن رات کھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5003]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1935 ترقیم شاملہ: -- 5004
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ كِلَاهُمَا، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنایا، اور (اس کے بعد) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5004]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم جہینہ قبیلہ کے علاقے کی طرف بھیجی اور ان پر ایک آدمی کو امیر مقرر کیا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5004]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة