Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب تحريم الخمر وبيان انها تكون من عصير العنب ومن التمر والبسر والزبيب وغيرها مما يسكر:
باب: خمر کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5131
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ، وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي، فَقَالَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا، فَقَالُوا أَوَ قَالَ بَعْضُهُمْ: قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ "، قَالَ: فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93.
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جس دن شراب حرام کی گئی، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر (لوگوں کو) شراب پلا رہا تھا۔ ان کی شراب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شراب کے سوا اور کوئی نہ تھی، اتنے میں ایک اعلان کرنے والا پکارنے لگا۔ انہوں نے کہا: میں جاؤں اور دیکھوں تو (دیکھا کہ وہاں) ایک منادی اعلان کر رہا تھا: (لوگو) سنو! شراب حرام کر دی گئی۔ کہا: پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ (سب) بہا دی۔ تو لوگوں نے کہا۔۔۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا۔۔۔ فلاں شہید ہوا تھا اور فلاں شہید ہوا تھا تو یہ (شراب) ان کے پیٹ میں موجود تھی۔۔۔ (ایک راوی نے) کہا: مجھے معلوم نہیں یہ (بھی) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے ہے (یا نہیں)۔۔۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) نازل فرمائی: جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے جب انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ایمان لائے اور نیک عمل کیے (تو) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے (حرمت سے پہلے) کھایا پیا (تھا۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5131]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا اور ان کی شراب صرف فضیخ یعنی گدری کھجور اور چھوہارے کا آمیزہ تھی، تو اچانک ایک منادی کرنے والے نے آواز بلند کی، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، نکل کر دیکھو، (کیا آواز ہے) میں نے نکل کر دیکھا، ایک اعلان کرنے والا اعلان کر رہا ہے، خبردار شراب حرام ہو چکی ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، وہ مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، مجھے بھی ابوطلحہ ؓ نے کہا، باہر نکل کر اس کو بہا دو، میں نے اسے بہا دیا، لوگوں نے یا بعض نے کہا، فلاں لوگ قتل کئے گئے، جبکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی، راوی کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، یہ بات حضرت انس کی حدیث میں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے، انہیں گناہ نہیں ہو گا، جو وہ حرمت شراب سے پہلے پی چکے ہیں، جبکہ وہ تقویٰ، ایمان اور عمل صالح کی روش پر قائم ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5132
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ، فَقَالَ: مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ، وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: " هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ؟ قُلْنَا: لَا قَالَ: فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ يَا أَنَسُ: أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ، قَالَ: فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ ".
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیخ (ملی جلی کچی اور پکی ہوئی کھجوروں کا رس جس میں خمیر اٹھ جائے) کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تمہارے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کوئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابوطلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تمہیں خبر پہنچی؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: انس! (شراب کے) یہ سارے مٹکے بہا دو۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں (کبھی) کچھ پوچھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5132]
عبدالعزیز بن صہیب بیان کرتے ہیں، لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فضیخ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے کہا ہماری شراب تمہاری اس فضیخ کے سوا نہ تھی جس کو تم فضیخ کا نام دیتے ہو، میں کھڑا حضرت ابوطلحہ، ابو ایوب اور بہت سے دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو اپنے گھر میں یہ فضیخ پلا رہا تھا، تو اچانک ایک آدمی آیا اور کہا، کیا تمہیں خبر پہنچ گئی ہے؟ ہم نے کہا، نہیں، اس نے کہا، شراب حرام ہو چکی ہے، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اے انس! ان مٹکوں کو بہا دو، انہوں نے اس آدمی سے خبر سننے کے بعد اس کو نہیں پیا اور نہ اس کے بارے میں سوال کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5133
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَكَفَأْتُهَا، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ؟، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِي، رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: ذَلِكَ أَيْضًا.
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے بتایا کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں اپنے قبیلے والوں اپنے چچاؤں کو ان کی (شراب) فضیخ پلا رہا تھا اور میں ہی ان میں سب سے کم سن تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ان) لوگوں نے کہا: انس! اس کو بہا دو۔ میں نے وہ سب بہا دی۔ (سلیمان تیمی نے) کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ کیا تھا (جس سے شراب بنائی گئی تھی؟) انہوں نے کہا: وہ کچی اور پکی کھجوریں تھیں (تیمی نے) کہا: ابوبکر بن انس نے کہا: ان دنوں یہی ان کی شراب تھی۔ سلیمان نے کہا: مجھے ایک شخص نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ خود انہوں نے (انس رضی اللہ عنہ) نے بھی یہی کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5133]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں خاندان کے لوگوں کو اپنے چچوں کو کھڑا، ان کی فضیخ پلا رہا تھا، کیونکہ میں سب سے کم عمر تھا، کہ ایک آدمی آ کر کہنے لگا، واقعہ یہ ہے کہ خمر حرام کر دی گئی ہے، تو انہوں نے کہا، اس کو الٹ دو، اے انس! تو میں نے اسے الٹا دیا، سلیمان تیمی کہتے ہیں، میں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، فضیخ کیا ہے؟ انہوں نے کہا، کچی پکی اور تازہ کھجوروں کا آمیزہ، حضرت ابوبکر بن انس نے بتایا، ان دنوں ان کا خمر یہی تھا، سلیمان کہتے ہیں، مجھے ایک آدمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی قول نقل کیا (ابوبکر والا) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5133]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ، وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھڑا ہوا قبیلے (کے لوگوں) کو شراب پلا رہا تھا، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انہوں نے (معتمر) نے کہا: ابوبکر بن انس نے بتایا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ (خود بھی) موجود تھے اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا۔ (سلیمان نے کہا:) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا: اس نے (خود) انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5134]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں قبیلہ کے لوگوں کو کھڑا شراب پلا رہا تھا، جیسا کہ اوپر ابن علیہ نے بیان کیا ہے، اس میں یہ بھی ہے تو ابوبکر بن انس نے کہا، ان دنوں ان کا خمر یہی تھا اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے، تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا انکار نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5134]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5135
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ، فَقَالَ: حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، قَالَ قَتَادَةُ: وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ".
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں انصاری کی ایک جماعت میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا: شراب کی حرمت نازل ہو گئی ہے، (یہ سنتے ہی) ہم نے اسی دن اسے (شراب کو) بہا دیا، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی (بنی ہوئی) شراب تھی۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: شراب حرام کر دی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی، نیم پختہ اور خشک کھجور کی (بنی ہوئی) ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5135]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک انصاری جماعت کے ساتھ ابوطلحہ، ابو دجانہ اور معاذ بن جبل کو ایک انصاری گروہ میں شراب پلا رہا تھا، تو ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا، ایک واقعہ رونما ہو گیا ہے، خمر کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا ہے، تو ہم نے اس وقت اس کو الٹ دیا اور وہ بسر اور تمر کا آمیزہ تھا، حضرت انس بن مالک ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، شراب (خمر) حرام قرار دیا گیا اور ان دنوں ان کا عمومی خمر بسر (کچی پکی کھجور) اور تمر (خشک کھجور) کا آمیزہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5136
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاء مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ.
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو ایک مشکیزے سے شراب پلا رہا تھا، ملی جلی نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی شراب تھی، جس طرح سعید (بن ابی عروبہ) کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5136]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ابوطلحہ، ابو دجابہ اور سہیل بن ضیاء کو ایک مشک سے شراب پلا رہا تھا، جس میں بسر اور تمر کا آمیزہ تھا، اوپر والی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5136]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5138
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَأَبَا طَلْحَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ فَأَتَاهُمْ آتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ: قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاكْسِرْهَا، فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت ابوطلحہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی (بنی ہوئی) شراب پلا رہا تھا، اس وقت ان کے پاس آنے والا ایک شخص آیا اور کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: انس! جا کر اس گھڑے کو توڑ دو، میں نے اپنا پیسنے والا پتھر (ہاون دستہ) اٹھایا اور اس کے نچلے حصے کو اس گھڑے پر مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5138]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ابو عبیدہ بن جراح، ابو طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فضیخ اور تمر کی شراب پلا رہا تھا، تو ان کے پاس ایک آنے والا آ کر کہنے لگا، شراب (خمر) حرام قرار دے دی گئی ہے، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اے انس! اٹھو اور اس مٹکہ کو توڑ دو، میں نے اٹھ کر اپنا ایک تراشیدہ پتھر اٹھایا اور اسے گھڑے کے نچلے حصہ میں مارا، حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5138]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں