صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3ق. باب تحريم لبس الحرير وغير ذٰلك للرجال
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5401
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا "، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب (بازار میں) ایک ریشمی حلہ (ایک جیسی ریشمی چادروں کا جوڑا بکتے ہوئے) دیکھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خرید لیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے (خطبہ دینے کے لیے) اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو (دنیا میں) صرف وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد (بن حاجب بن زرارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے) کے حلے کے بارے میں جو فرمایا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5401]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کے دروازہ کے پاس ایک ریشمی دھاری دار جوڑا دیکھا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اے کاش، آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے لیے اور وفد کے لیے جب وہ آپ کے پاس آئیں پہن لیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو تو بس وہ لوگ پہنتے ہیں، جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، یعنی کافر“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عنایت فرمایا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ مجھے عنایت کیا ہے، حالانکہ آپ عطارد کے حلہ (جوڑا) کے بارے میں جو کہہ چکے ہیں، آپ کو معلوم ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا ہے“ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ مکہ میں اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5402
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5402]
امام صاحب یہی روایت اپنے چار اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5403
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظُنُّهُ، قَالَ: وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً، وَقَالَ: شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا "، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا، عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ".
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ (بیچنے کے لیے) اس کی قیمت بتا رہا ہے۔ یہ بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے انعام و اکرام وصول کرتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو دیکھا ہے وہ بازار میں ایک ریشمی حلہ بیچ رہا ہے، آپ اسے خرید لیں تو آپ عرب کے وفود آتے (اس وقت) آپ اس کو زیب تن فرمائیں اور میرا خیال ہے (یہ بھی) کہا: اور جمعہ کے دن بھی آپ اسے زیب تن فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میں ریشم صرف وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔“ اس واقعے کے بعد (کچھ دن گزرے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی ریشمی حلے آئے، آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، ایک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: ”اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے حلے کو اٹھا کر لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے یہ حلہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ نے کل ہی عطارد کے حلے کے متعلق فرمایا تھا جو آپ نے فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس یہ حلہ اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے تم خود پہنو، بلکہ میں نے تمہارے پاس یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے کچھ (فائدہ) حاصل کرو۔“ تو رہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو وہ اپنا حلہ پہن کر آگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرح دیکھا جس سے انہیں پتہ چل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا ایسا کرنا پسند نہیں آیا، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ آپ ہی نے تو اسے میرے پاس بھیجا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم خود اس کو پہن لو۔ بلکہ میں نے اس لیے اس حلے کو تمہارے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5403]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد تیمی کو دیکھا، بازار میں ایک ریشمی دھاری دار جوڑا فروخت کر رہا ہے، وہ ایسا آدمی تھا، جو بادشاہوں کے پاس جاتا اور ان سے انعام پاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عطارد کو دیکھا ہے، وہ بازار میں ریشمی دھاری دار جوڑا فروخت کرنا چاہتا ہے، اے کاش! آپ اسے خرید لیں اور عربی وفود جب آپ کے پاس آئیں تو اسے پہن لیں اور میرے خیال میں یہ بھی کہا: جمعہ کے دن پہن لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا: ”اس کو دنیا میں صرف وہ لوگ پہنتے ہیں، جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔“ اس کے کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے جوڑے لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا، ایک جوڑا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف بھیجا اور ایک جوڑا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرمایا: ”اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو۔“ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا جوڑا اٹھا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے یہ بھیج دیا ہے، حالانکہ آپ کل عطارد کے جوڑے کے بارے میں جو فرما چکے ہیں، آپ کو معلوم ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تجھے اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ اسے پہن لو، لیکن میں نے تو اس لیے بھیجا کہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔“ رہے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو وہ اپنا جوڑا پہن کر چل پڑے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نظر سے دیکھا کہ وہ سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرکت کو برا محسوس کیا ہے تو عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کس نظر سے دیکھ رہے ہیں، آپ ہی نے تو مجھے یہ بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیری طرف اس لیے نہیں بھیجا کہ تو اسے پہن لے، بلکہ میں نے تو تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ تو اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے لیے دوپٹے بنا، ان میں تقسیم کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5404
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، قَالَ: فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استبرق (موٹے ریشم) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتا ہوا دیکھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے خرید لیجیے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ کہا: پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا (لفظی ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا: ”یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ یا آپ نے (اس طرح) فرمایا تھا: ”اس کو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس لیے کہ) تم اس کو فروخت کر دو اور اس (کی قیمت) سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5404]
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بازار میں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے پایا تو اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: اے اللہ کے رسول! آپ اسے خرید لیں اور عید کے موقعہ پر اور وفد کے لیے خوش پوشی کا اظہار فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بس ان لوگوں کا لباس ہے، جن کا کوئی حصہ نہیں ہے“ پھر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، حضرت ٹھہرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیباج کا جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو لے کر بڑھے، حتی کہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کہہ چکے ہیں ”یہ تو بس ان لوگوں کا لباس ہے، جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ یا ”اسے تو بس وہ لوگ پہنتے ہیں، جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ پھر آپ نے مجھے بھیج دیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا: ”اور اسے بیچ کر، اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5404]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5405
وحدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5405]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5405]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5406
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوِ اشْتَرَيْتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے ابوبکر بن حفص نے سالم سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی (کے کندھوں) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا: ”اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر (بعد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا، کہا: میں نے عرض کی: آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سو فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5406]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد کے خاندان کے کسی آدمی کے پاس، دیباج یا ریشم کی قبا دیکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے کاش! آپ اسے خرید لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو صرف وہ لوگ پہنتے ہیں، جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دھاری دار ریشمی جوڑا تحفہ میں ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے (عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بھیج دیا، میں نے کہا: آپ نے یہ میری طرف بھیج دیا ہے، حالانکہ میں اس کے بارے میں جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ سے سن چکا ہوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو تجھے صرف اس لیے بھیجا ہے، تاکہ تم اس سے فائدہ اٹھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5407
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا.
روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوبکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے ایک آدمی (کے کندھوں) پر (بیچنے کے لیے ایک حلہ) دیکھا، جس طرح یحییٰ بن سعید کی حدیث ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لیے تمہارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم (خود) اسے پہنو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5407]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد کے خاندان کے ایک آدمی پر جیسا کہ مذکورہ بالا روایت ہے، ہاں اس میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو تیری طرف صرف اس لیے یہ بھیجا تاکہ اس سے فائدہ اٹھا لو اور میں نے یہ اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2068 ترقیم شاملہ: -- 5408
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال: قَالَ لِي: سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا.
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی، کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا، کہا: میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص (کے کندھے) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا، وہ اس (حلے) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ جبہ اس لیے تمہارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے (اسے بیچ کر) کچھ مال حاصل کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5408]
یحییٰ بن ابی اسحاق بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے استبرق کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور کھردرا ہو تو اس نے کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ کہتے سنا ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو استبرق کا جوڑا پہنے دیکھا تو وہ جوڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آگے مذکورہ بالا راویوں کی طرح حدیث بیان کی، ہاں اس میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیری طرف صرف اس لیے بھیجا ہے، تاکہ تم اس سے مال و دولت حاصل کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2068
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة