صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب تحريم تصوير صورة الحيوان وتحريم اتخاذ ما فيه صورة غير ممتهنة بالفرش ونحوه وان الملائكة عليهم السلام لا يدخلون بيتا فيه صورة ولا كلب
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2104 ترقیم شاملہ: -- 5511
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا، فَجَاءَتْ تِلْكَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ، وَفِي يَدِهِ عَصًا، فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: " مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ " ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ هَاهُنَا؟ "، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَكَ فَلَمْ تَأْتِ "، فَقَالَ: " مَنَعَنِي الْكَلْبُ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِكَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے، چنانچہ وہ گھڑی آ گئی لیکن جبریل علیہ السلام نہ آئے۔ (اس وقت) آپ کے دست مبارک میں ایک عصا تھی۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے (نیچے) پھینکا اور فرمایا: ”نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے نہ رسول (خلاف ورزی کرتے ہیں۔)“ (جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیاء علیہم السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! یہ کتا یہاں کب گھسا؟“ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے بالکل پتا نہیں چلا۔ آپ نے حکم دیا تو اس (پلے) کو نکال دیا گیا، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے۔“ انہوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں تصویر ہو۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5511]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مخصوص وقت میں آپ کے پاس آنے کا وعدہ کیا، وہ معین وقت آ گیا لیکن جبریل علیہ السلام نہ آئے، آپ کے ہاتھ میں ایک عصا (ڈنڈا) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے فرستادے، اپنے وعدہ کی مخالفت نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ کی یا نظر دوڑائی تو اپنی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا دیکھا اور پوچھا: ”اے عائشہ! یہ کتا یہاں کب آ گیا؟“ انہوں نے جواب دیا، اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں ہے تو آپ کے حکم سے اس کو نکال دیا گیا تو جبریل علیہ السلام بھی آ گئے، اس پر آپ نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تو میں آپ کے انتظار میں بیٹھا، لیکن آپ آئے ہی نہیں“ اس پر اس نے جواب دیا، مجھے اس کتے نے آنے سے روکا جو آپ کے گھر میں تھا، کیونکہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5511]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2104 ترقیم شاملہ: -- 5512
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابوحازم سے حدیث سنائی کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابوحازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتائی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5512]
یہی حدیث امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کا وعدہ کیا، لیکن یہ مذکورہ بالا حدیث کی طرح مفصل نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5512]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة