صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب من حق المسلم للمسلم رد السلام:
باب: مسلمان کا حق یہ بھی ہے سلام کا جواب دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 2162 ترقیم شاملہ: -- 5650
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ". ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ "، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔“ نیز عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے (ابن شہاب) زہری سے خبر دی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے لیے اس کے بھائی پر پانچ چیزیں واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔“ عبدالرزاق نے کہا: معمر اس حدیث (کی سند) میں ارسال کرتے تھے (تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے) اور کبھی اسے (سعید) بن مسیب اور آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے (متصل مرفوع) روایت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5650]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2162 ترقیم شاملہ: -- 5651
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ".
اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5651]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں“ پوچھا گیا، وہ کون سے ہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسے ملو تو سلام کہو اور جب وہ تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت کا طالب ہو تو اسے نصیحت کرو اور جب وہ چھینک کر الحمدللہ کہے تو اس کو یرحمک اللہ کہو اور جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة