🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب النهي عن قتل النمل:
باب: چیونٹی کے مارنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2241 ترقیم شاملہ: -- 5849
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة بن عبد الرحمن عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ، فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ ".
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(پہلے) انبیاء میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کے بارے میں حکم دیا تو وہ جلا دی گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے آپ نے امتوں میں سے ایک ایسی امت (بڑی آبادی) کو ہلاک کر دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی؟ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5849]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ایک چیونٹی نے انبیاء میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا تو اس کے حکم سے چیونٹیوں کا سارا گھر (بل) جلا دیا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: کیا اس بنا پر کہ تجھے ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تم نے ایک تسبیح کہنے والا گروہ جلا دیا؟ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5849]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2241
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2241 ترقیم شاملہ: -- 5850
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(پہلے) انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے (آرام کرنے کے لیے سواری سے) اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا۔ انہوں نے اس کے پورے بل کے بارے میں حکم دیا، اسے نیچے سے نکل دیا گیا پھر حکم دیا ان کو جلا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں (سزا) نہ (دی؟) [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5850]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درخت کے نیچے انبیاء میں سے کوئی نبی اترا تو اسے ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، سو انہوں نے اپنے سامان کو اس کے نیچے سے نکال لینے کا حکم دیا۔ پھر اس کو جلانے کا حکم دیا تو اسے جلا دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ایک ہی چیونٹی کو سزا کیوں نہیں دی؟ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5850]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2241
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2241 ترقیم شاملہ: -- 5851
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ، قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(پہلے) انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے فروکش ہوئے انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کی پوری آبادی کے بارے میں حکم دیا، اسے نیچے سے (کھود کر) نکال لیا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس (پوری آبادی) کو آگ سے جلا دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: (اس ایک ہی کو کیوں (سزا) نہ (دی؟) [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5851]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا تو اسے ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے اپنے سامان کو اس کے نیچے سے نکالنے کا حکم دیا اور اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے آگ میں جلا دیا گیا، سو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ایک ہی چیونٹی کو کیوں قتل نہ کروایا؟ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5851]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2241
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں