صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب فضل إسباغ الوضوء على المكاره:
باب: تکلیف کے وقت مکمل وضو کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 251 ترقیم شاملہ: -- 587
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ".
اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناگواریوں (کے) باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مساجد تک زیادہ قدم چلنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، سو یہی رباط (شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 587]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ مٹا دے، اور اس سے درجات بلند فرمائے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکالیف کے باوجود مکمل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مساجد میں پہنچنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی اپنے آپ کو پابند بنانا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 587]
ترقیم فوادعبدالباقی: 251
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الطهارة، باب: ما جاء في اسباغ الوضوء برقم (51) انظر ((التحفة)) برقم (13981)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 251 ترقیم شاملہ: -- 588
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ذِكْرُ: الرِّبَاطِ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ ثِنْتَيْنِ: فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ.
(بجائے اسماعیل کے) مالک اور شعبہ نے اسی سند کے ساتھ علاء بن عبدالرحمن سے روایت کی، شعبہ کی حدیث میں (رباط) کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ مالک کی حدیث میں دو باہ ہے: ”یہی رباط ہے، یہی رباط ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 588]
(مالک رحمہ اللہ اور شعبہ رحمہ اللہ) نے علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے روایت سنائی، شعبہ رحمہ اللہ کی روایت میں ”رباط“ کا ذکر نہیں، اور مالک رحمہ اللہ کی روایت میں: «فَذَلِكُمُ ٱلرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ ٱلرِّبَاطُ» دو دفعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 588]
ترقیم فوادعبدالباقی: 251
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبي)) 1 / 89 - 90 في الطهارة، باب: الفضل في ذلك انظر ((التحفة)) برقم (14087)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة