صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب حسن خلقه صلى الله عليه وسلم
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2309 ترقیم شاملہ: -- 6011
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي أُفًّا قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ، لِمَ فَعَلْتَ كَذَا، وَهَلَّا فَعَلْتَ كَذَا "، زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ: لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَاللَّهِ.
سعید بن منصور اور ابوربیع نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے (تقریباً) دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، اللہ کی قسم! آپ مجھ سے کبھی اُف تک نہیں کہا اور نہ کبھی کسی چیز کے لیے مجھ سے یہ کہا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا؟ یا فلاں کام کیوں نہ کیا؟ ابوربیع نے اضافہ کیا: (نہ آپ نے کبھی یہ فرمایا) ”خادم ایسا نہیں کرتا۔“انہوں نے ان (انس رضی اللہ عنہ) کی بات ”اللہ کی قسم!“ کا ذکر نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6011]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، اللہ کی قسم! آپ نے مجھے کبھی «أُفٍّ» ”اُف“ تک نہیں کہا اور نہ مجھے کسی چیز کے بارے میں فرمایا: ”تو نے اس طرح کیوں کیا؟“ اور ”تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟“ ابو ربیع اضافہ کرتے ہیں، جو کام خادم نہیں کرتا اور انہوں نے کلمہ ”اللہ کی قسم“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6011]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2309
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2309 ترقیم شاملہ: -- 6012
وحَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمِثْلِهِ.
سلام بن مسکین نے کہا: ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6012]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ کے ایک اور استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6012]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2309
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2309 ترقیم شاملہ: -- 6013
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ، فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ، لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا ".
ہمیں عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! انس ایک سمجھدار لڑکا ہے، اس لیے یہ آپ کی خدمت کرے گا (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر میں سفر اور حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا اللہ کی قسم! میں نے کوئی کام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور میں نے کوئی کام نہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6013]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے کر چل پڑے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انس ایک سمجھدار لڑکا ہے، یہ آپ کی خدمت کرے گا، سو میں نے سفر اور حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، اللہ کی قسم! میں نے جو کام (بھی) کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا: ”تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟“ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جو میں نے نہ کیا ہو یہ فرمایا: ”تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6013]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2309
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2309 ترقیم شاملہ: -- 6014
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا، وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ ".
سعید بن ابی بردہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نو سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی مجھ سے یوں فرمایا: ہو تم نے اس طرح کیوں کیا؟ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز میں کبھی مجھ پر نکتہ چینی کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6014]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو سال خدمت کی تو میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی فرمایا ہو: ”یہ کام تو نے کیوں کیا؟“ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کام پر نکتہ چینی فرمائی (نہ کسی کام میں عیب نکالا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6014]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2309
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2309 ترقیم شاملہ: -- 6016
قَالَ أَنَسٌ: " وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ، مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ، لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا، أَوْ لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ، هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نے نو سال آپ کی خدمت کی، میں نے آپ کو کبھی نہ دیکھا کہ کسی کام کے بارے میں جو میں نے کیا، یہ کہا ہو تم نے فلاں فلاں کام کیوں کیا؟ اور کوئی چیز جو میں نے چھوڑ دی ہو (اس کے بارے میں کہا ہو:) تم نے فلاں فلاں کام کیوں نہ کیا؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6016]
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو سال خدمت کی ہے، مجھے نہیں معلوم کہ میں نے جو کام کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کے متعلق کہا ہو: ”وہ فلاں فلاں کام تو نے کیوں کیا ہے؟“ یا جو کام میں نے چھوڑا ہو، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہو: ”وہ ایسے ایسے یا فلاں فلاں کام کیوں نہیں کیا؟“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2309
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة