صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب توقيره صلى الله عليه وسلم وترك إكثار سؤاله عما لا ضرورة إليه او لا يتعلق به تكليف وما لا يقع ونحو ذلك:
باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2358 ترقیم شاملہ: -- 6116
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرام کر دیا جائے۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6116]
عامر بن سعد، اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے،جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں کرید کی،جو مسلمانوں پر حرام نہ تھی تو اس کےسوال کی بناء پر، ان پرحرام قرار دے دی گئی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2358
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2358 ترقیم شاملہ: -- 6117
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ، مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یہ اسی طرح یاد ہے جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یاد ہے۔ زہری نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں میں سے مسلمانوں کے بارے میں سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے، جس نے ایسے معاملے کے متعلق سوال کیا جو حرام نہیں کیا گیا تھا تو اس کے سوال کی بنا پر اس کو لوگوں کے لیے حرام کر دیا گیا۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6117]
امام سفیان کہتے ہیں، یہ حدیث مجھے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی طرح یاد ہے،حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”مسلمانوں میں سب سےبڑا مجرم وہ مسلمان ہے، جس نے ایسی چیز کے بارے میں کریدا، جو حرام نہ تھی، سو لوگوں پر اس کے سوال کے نتیجہ میں حرام ٹھہرائی گئی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2358
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2358 ترقیم شاملہ: -- 6118
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، وَنَقَّرَ عَنْهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا.
یونس اور معمر دونوں نے اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت کی اور معمر کی حدیث میں مزید بیان ہے: "وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بارے میں کریدا" اور یونس کی حدیث میں کہا: عامر بن سعد (سے روایت ہے) انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6118]
یہی روایت امام صاحب کو دو اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی،معمر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، ”وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کی کرید کی، تفتیش کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2358
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة