🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب من فضائل موسى صلى الله عليه وسلم:
باب: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2372 ترقیم شاملہ: -- 6148
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، قَالَ، فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ ".
محمد بن رافع اور عبدبن حمید نے مجھے حدیث بیان کی۔ عبدنے کہا: عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی اور ابن رافع نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے ابن طاوس سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا جب وہ (انسانی شکل اور صفات کے ساتھ) ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ رسید کیا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کی: تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو موت نہیں چاہتا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اسے لوٹا دی اور فرمایا: دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ایک بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں، ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ان میں ہر بال کے بدلے میں ایک سال انہیں ملے گا۔ (فرشتے نے پیغام دیا تو موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: پھر موت ہو گی۔ تو انہوں نے کہا: پھر ابھی (آ جائے) تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے اتنا قریب کر دے جتنا ایک پتھر کے پھینکنے کا فاصلہ ہو تا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہو تا تو میں تمہیں (بیت المقدس کے) راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6148]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس موت کا فرشتہ بھیجا گیا تو جب وہ ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے اسے تھپڑ رسید کیا اور اس کی آنکھ پھوڑدی وہ اپنے رب کے پاس آیا اور عرض کی: آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اسے لوٹا دی اور فرمایا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھو، اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے، ہر بال کے عوض میں ایک سال عمر ملے گی۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا پھر مرنا ہوگا۔ عرض کیا تو ابھی مار لو اور اللہ سے درخواست کی، مجھے ارض مقدس (بیت المقدس) کے ایک پتھر پھینکے جاتے کے فاصلہ تک قریب کر دے، رسول اللہ نے فرمایا: اگر میں اس جگہ ہوتا تو میں تمہیں ان کی قبر دکھاتا، راستہ کے کنارے پر سرخ ٹیلے کے نیچے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2372 ترقیم شاملہ: -- 6149
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، قَالَ: فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ، فَفَقَأَهَا، قَالَ: فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ، لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي، قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي، فَقُلِ الْحَيَاةَ تُرِيدُ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُوتُ، قَالَ: فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ، رَبِّ أَمِتْنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ: " لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ "،
محمد بن رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ ان میں سے (ایک حدیث یہ) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملک الموت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے کہا: اپنے رب کے پاس چلیں؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی آنکھ پر تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ نکال دی۔ فرمایا: ملک الموت اللہ تعالیٰ کے پاس واپس گیا اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا تھا جو موت نہیں چاہتا، اور اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اسے لوٹا دی اور فرمایا: میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو: آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر زندگی چاہتے ہیں تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پشت پر رکھیں، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ زندہ رہیں گے۔ (یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: پھر کیا ہو گا؟ کہا: پھر آپ کو موت آ جائے گی۔ کہا: تو پھر ابھی جلدی ہی (موت آ جائے) اور دعا کی: اے میرے پروردگار! مجھے ارض مقدس سے ایک پتھر کے پھینکنے کے فاصلے پر موت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! گر میں اس جگہ کے پاس ہو تا تو میں تم کو راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6149]
ہمام بن منبہ کی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کردہ احادیث میں سے ایک یہ ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" ملک الموت حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اپنے رب کے پاس چلیں؟ تو حضرت موسیٰ ؑ نے اس کی آنکھ پر تھپڑ مار ا اور اس کی آنکھ نکا ل دی فر یا:" ملک الموت اللہ تعا لیٰ کے پاس واپس گیا اور کہا: تونے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا تھا جو موت نہیں چاہتا،اور اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے چنانچہ اللہ تعا لیٰ نے اس کی آنکھ اسے لو ٹا دی اور فر یا: میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو: آپ زند گی چاہتے ہیں؟اگر زندگی چا ہتے ہیں تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پشت پر رکھیں، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ زندہ رہیں گے۔(یہ سن کر حضرت موسیٰ ؑ نے) کہا: پھر کیا ہو گا؟کہا: پھر آپ کو موت آجائے گی کہا: تو پھر ابھی جلدی ہی (موت آجا ئے اور دعا کی) اے میرے پروردگار!مجھے ارض مقدس سے ایک پتھر کے پھینکنے کے فا صلےپرموت دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" االلہ کی قسم! گر میں اس جگہ کے پاس ہو تا تو میں تم کو راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2372 ترقیم شاملہ: -- 6150
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.
محمد بن یحییٰ نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6150]
امام صاحب بھی یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں