🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 339 ترقیم شاملہ: -- 6146
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا، إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى بِأَثَرِهِ، يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ، حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ، أَوْ سَبْعَةٌ، ضَرْبُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحَجَرِ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے، وہ لوگ (آپس میں) کہنے لگے: واللہ! حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ نہانے سے اس کے سوا اور کوئی بات نہیں روکتی کہ انہیں خصیوں کی سوجن ہے۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے، وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ نکلا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ کہتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے: میرے کپڑے، پتھر! میرے کپڑے، پتھر! یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جائے ستر دیکھ لی۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی تکلیف نہیں۔ فرمایا: انہوں نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! پتھر پر چھ یا سات زخموں کے جیسے نشان پڑ گئے، یہ پتھر کو موسیٰ علیہ السلام کی مار تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6146]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمام بن منبہ کے سنائی ہوئی احادیث میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسرئیلی ننگے نہاتے تھے اور ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھتے رہتے او رحضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے الگ تھلگ غسل کرتے تھے تو وہ کنے لگے، اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ نہانے سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ ان کے خصے پھولے ہوئے ہیں، ایک دن وہ نہانے لگے، تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے، پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا، موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے، کہتے جاتے تھے، میرے کپڑے دے، اے پتھر، میرے کپڑے دے، اے پتھر حتی کہ اسرائیلیوں نے موسیٰ علیہ السلام کی شرم گاہ کو دیکھ لیا تو وہ کہنے لگے، اللہ کی قسم!موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی بیماری نہیں ہے، اس کے بعد پتھر ٹھہر گیا، حتی کہ انہیں اچھی طرح دیکھ لیا گیا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو مارنے لگے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی قسم! حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پتھر کے مارنے کی بنا پر، پتھر پر چھ یا سات نشان پڑ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 339
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 339 ترقیم شاملہ: -- 6147
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا حَيِيًّا، قَالَ: فَكَانَ لَا يُرَى مُتَجَرِّدًا، قَالَ: فَقَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ: إِنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ، فَوَضَعَ ثَوْبهُ عَلَى حَجَرٍ، فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى، وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ، ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَنَزَلَت: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا سورة الأحزاب آية 69 ".
عبداللہ بن شفیق نے کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام باحیا مرد تھے، کہا: انہیں برہنہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ کہا تو بنی اسرائیل نے کہا: انہیں خصیوں کی سوجن ہے۔ کہا: (ایک دن) انہوں نے تھوڑے سے پانی (کے ایک تالاب) کے پاس غسل کیا اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھ دیے تو وہ پتھر بھاگ نکلا۔ آپ علیہ السلام اپنا عصا لے کر اس کے پیچھے ہو لیے اسے مارتے تھے (اور کہتے تھے:) میرے کپڑے پتھر! میرے کپڑے پتھر! یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک مجمع کے سامنے رک گیا۔ اور (اس کے حوالے سے آیت) اتری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا» اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی کہی ہوئی بات سے بری کیا اور وہ اللہ کے نزدیک انتہائی وجیہ (خوبصورت اور وجاہت والے) تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6147]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت با حیاء مرد تھے اور کبھی ننگے دکھائی نہیں دیتے تھے تو بنو اسرائیل کہنے لگے ان کے خصیتین سوجھے ہوئے ہیں، انہوں نے ایک تھوڑے پانی کے ساتھ غسل کیا اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے، پتھر بھاگ کھڑا ہوا، موسیٰ علیہ السلام اپنا ڈنڈا لے کر مارنے کے لیے پیچھے بھاگے، میرے کپڑے، اے پتھر، میرے کپڑے اے پتھر، حتی کہ وہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس جا کر رک گیا۔اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے کےلیے یہ آیت اتری، اے ایماندارو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا، جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کواذیت دی، سو اللہ نے ان کوان کی باتوں سے بری کر دیا اور وہ اللہ کے ہاں بہت عزت والے تھے [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 339
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2372 ترقیم شاملہ: -- 6148
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، قَالَ، فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ ".
محمد بن رافع اور عبدبن حمید نے مجھے حدیث بیان کی۔ عبدنے کہا: عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی اور ابن رافع نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے ابن طاوس سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا جب وہ (انسانی شکل اور صفات کے ساتھ) ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ رسید کیا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کی: تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو موت نہیں چاہتا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اسے لوٹا دی اور فرمایا: دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ایک بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں، ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ان میں ہر بال کے بدلے میں ایک سال انہیں ملے گا۔ (فرشتے نے پیغام دیا تو موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: پھر موت ہو گی۔ تو انہوں نے کہا: پھر ابھی (آ جائے) تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے اتنا قریب کر دے جتنا ایک پتھر کے پھینکنے کا فاصلہ ہو تا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہو تا تو میں تمہیں (بیت المقدس کے) راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6148]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس موت کا فرشتہ بھیجا گیا تو جب وہ ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے اسے تھپڑ رسید کیا اور اس کی آنکھ پھوڑدی وہ اپنے رب کے پاس آیا اور عرض کی: آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اسے لوٹا دی اور فرمایا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھو، اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے، ہر بال کے عوض میں ایک سال عمر ملے گی۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا پھر مرنا ہوگا۔ عرض کیا تو ابھی مار لو اور اللہ سے درخواست کی، مجھے ارض مقدس (بیت المقدس) کے ایک پتھر پھینکے جاتے کے فاصلہ تک قریب کر دے، رسول اللہ نے فرمایا: اگر میں اس جگہ ہوتا تو میں تمہیں ان کی قبر دکھاتا، راستہ کے کنارے پر سرخ ٹیلے کے نیچے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2372 ترقیم شاملہ: -- 6149
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، قَالَ: فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ، فَفَقَأَهَا، قَالَ: فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ، لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي، قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي، فَقُلِ الْحَيَاةَ تُرِيدُ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُوتُ، قَالَ: فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ، رَبِّ أَمِتْنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ: " لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ "،
محمد بن رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ ان میں سے (ایک حدیث یہ) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملک الموت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے کہا: اپنے رب کے پاس چلیں؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی آنکھ پر تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ نکال دی۔ فرمایا: ملک الموت اللہ تعالیٰ کے پاس واپس گیا اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا تھا جو موت نہیں چاہتا، اور اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اسے لوٹا دی اور فرمایا: میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو: آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر زندگی چاہتے ہیں تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پشت پر رکھیں، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ زندہ رہیں گے۔ (یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: پھر کیا ہو گا؟ کہا: پھر آپ کو موت آ جائے گی۔ کہا: تو پھر ابھی جلدی ہی (موت آ جائے) اور دعا کی: اے میرے پروردگار! مجھے ارض مقدس سے ایک پتھر کے پھینکنے کے فاصلے پر موت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! گر میں اس جگہ کے پاس ہو تا تو میں تم کو راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6149]
ہمام بن منبہ کی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کردہ احادیث میں سے ایک یہ ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" ملک الموت حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اپنے رب کے پاس چلیں؟ تو حضرت موسیٰ ؑ نے اس کی آنکھ پر تھپڑ مار ا اور اس کی آنکھ نکا ل دی فر یا:" ملک الموت اللہ تعا لیٰ کے پاس واپس گیا اور کہا: تونے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا تھا جو موت نہیں چاہتا،اور اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے چنانچہ اللہ تعا لیٰ نے اس کی آنکھ اسے لو ٹا دی اور فر یا: میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو: آپ زند گی چاہتے ہیں؟اگر زندگی چا ہتے ہیں تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پشت پر رکھیں، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ زندہ رہیں گے۔(یہ سن کر حضرت موسیٰ ؑ نے) کہا: پھر کیا ہو گا؟کہا: پھر آپ کو موت آجائے گی کہا: تو پھر ابھی جلدی ہی (موت آجا ئے اور دعا کی) اے میرے پروردگار!مجھے ارض مقدس سے ایک پتھر کے پھینکنے کے فا صلےپرموت دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" االلہ کی قسم! گر میں اس جگہ کے پاس ہو تا تو میں تم کو راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2372 ترقیم شاملہ: -- 6150
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.
محمد بن یحییٰ نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6150]
امام صاحب بھی یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2373 ترقیم شاملہ: -- 6151
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ، أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ، أَوْ لَمْ يَرْضَهُ، شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ، قَالَ: لَا، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ، قَالَ: فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَطَمَ وَجْهَهُ، قَال: تَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ أَظْهُرِنَا، قَالَ: فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ لِي ذِمَّةً، وَعَهْدًا، وَقَالَ: فُلَانٌ لَطَمَ وَجْهِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ، قَالَ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ، وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ، أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، آخِذٌ بِالْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي، أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ، أَوْ بُعِثَ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُ، إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام ".
حجین بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے عبداللہ بن فضل ہاشمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک بار ایک یہودی اپنا سامان بیچ رہا تھا اس کو اس کے کچھ معاوضے کی پیش کش کی گئی جو اسے بری لگی یا جس پر وہ راضی نہ ہوا۔ شک عبدالعزیز کو ہوا۔ وہ کہنے لگا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! انصار میں سے ایک شخص نے اس کی بات سن لی تو اس کے چہرے پر تھپڑ لگایا، کہا: تم کہتے ہو اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تشریف لا چکے اور) ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کہا: تو وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابوالقاسم! میری ذمہ داری لی گئی ہے اور ہم سے (سلامتی کا) وعدہ کیا گیا ہے۔ اور کہا: فلاں شخص نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟ کہا کہ اس نے کہا تھا: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا اور آپ کے چہرہ مبارک سے غصہ ظاہر ہونے لگا، پھر آپ نے فرمایا: اللہ کے نبیوں کے مابین (انہیں ایک دوسرے پر) فضیلت نہ دیا کرو اس لیے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق ہے سب کے ہوش و حواس جاتے رہیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو سب سے پہلے جسے اٹھایا جائے گا وہ میں ہوں گا یا (فرمایا) جنہیں سب سے پہلے اٹھایا جائے گا میں ان میں ہوں گا۔ تو (میں دیکھوں گا کہ) حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوئے ہوں گے، مجھے معلوم نہیں کہ ان کے لیے یوم طور کی بے ہوشی کو شمار کیا جائے گا (اور وہ اس کے عوض اس بے ہوشی سے مستثنیٰ ہوں گے،) یا انہیں مجھ سے پہلے ہی اٹھایا جائے گا، میں (یہ بھی) نہیں کہتا کہ کوئی (نبی) یونس بن متی علیہ السلام سے افضل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6151]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک بار ایک یہودی اپنا سامان بیچ رہا تھا اس کو اس کے کچھ معاوضے کی پیش کش کی گئی جو اسے بری لگی یا جس پر وہ راضی نہ ہوا۔شک عبدالعزیز کو ہوا۔وہ کہنے لگا نہیں،اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی!انصار میں سے ایک شخص نے اس کی بات سن لی تو اس کے چہرے پر تھپڑلگا یا،کہا: تم کہتے ہو۔ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی!جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تشریف لا چکے اور) ہمارے درمیان مو جو د ہیں۔کہا: تو وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا اور کہنے لگا: ابو القاسم!میری ذمہ داری لی گئی ہے اور ہم سے (سلامتی کا) وعدہ کیا گیا ہے۔اور کہا: فلا ں شخص نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: " تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟کہا کہ اس نے کہا تھا۔اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !۔اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کہا: کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ آپ ہمارے درمیان مو جود ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور آپ کے چہرہ مبارک سے غصےکا پتہ چلنے لگا،پھر آپ نے فر یا:"اللہ کے نبیوں کے مابین (انھیں ایک دوسرے پر)فضیلت نہ دیا کرو اس لیے کہ جب صور پھونکا جا ئے گا تو سوائے ان کے جنھیں اللہ چا ہے گا آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق ہے سب کے ہوش و حواس جا تے رہیں گے،پھر دوبارہ صور پھونکا جا ئے گا،تو سب سے پہلے جسے اٹھا یا جا ئے گا وہ میں ہو ں گا یا (فرمایا) جنھیں سب سے پہلے اٹھا یا جا ئے گا میں ان میں ہو ں گا۔تو (میں دیکھوں گا۔کہ) حضرت موسیٰ ؑ عرش کو پکڑ ے ہو ئے ہوں گے، مجھے معلوم نہیں کہ ان کے لیے یوم طور کی بے ہو شی کو شمار کیا جا ئے گا۔(اور وہ اس کے عوض اس بے ہوشی سےمستثنیٰ ہو ں گے،)یاانھیں مجھ سے پہلے ہی اٹھا یا جا ئے گا،میں یہ نہیں کہتا کہ کو ئی یو نس بن متی ؑ سے افضل ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6151]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2373
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2373 ترقیم شاملہ: -- 6152
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً.
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے اسی سند سے بالکل اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6152]
امام بالکل یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6152]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2373
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2373 ترقیم شاملہ: -- 6153
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " اسْتَبَّ رَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَالَمِينَ، وَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، عَلَى الْعَالَمِينَ، قَالَ: فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ، وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي، أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ، فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ؟ ".
یعقوب کے والد ابراہیم (بن سعد) نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: دو آدمیوں کی تکرار ہو گئی، ایک یہودیوں میں سے تھا اور ایک مسلمانوں میں سے۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی! یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی! تو اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور اس کے اپنے اور مسلمان کے درمیان جو کچھ ہوا تھا وہ سب آپ کو بتا دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو (جب) تمام انسان ہوش و حواس سے بے گانہ ہو جائیں گے، سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو موسیٰ علیہ السلام عرش کی ایک جانب (اسے) پکڑے کھڑے ہوں گے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے بے ہوش ہوئے تھے، اس لیے مجھ سے پہلے اٹھائے گئے یا وہ ان میں سے ہیں جنہیں اللہ نے «إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ» ’سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا‘ کے تحت مستثنیٰ کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6153]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک یہودی آدمی اور ایک مسلمان آدمی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تو مسلمان نے کہا،اس ذات کی قسم،جس نےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کوتمام جہانوں پر فوقیت بخشی،سب سے چن لیا اور یہودی نے کہا،اس ذات کی قسم،جس نے موسیٰ ؑ کو سب جہانوں سے چن لیا،اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور یہودی کے چہرے پر تھپڑ رسید کردیا تو یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور مسلمان کے معاملہ کی خبردی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مجھے موسیٰ ؑ پر ترجیح نہ دو،کیونکہ تمام لوگ بے ہوش ہوں گے تو میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا اور اس وقت موسیٰ ؑ عرش کے ایک کنارے کو پکڑے ہوئے ہوں گے،مجھے معلوم نہیں،کیا وہ بھی بے ہوش ہونے والوں میں داخل تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ان میں سے ہیں،جن کو اللہ نے صعقہ سے مستثنیٰ قراردیا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2373
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2373 ترقیم شاملہ: -- 6154
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ. عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص کے درمیان تکرار ہوئی، جس طرح ابن شہاب سے ابراہیم بن سعد کی روایت کردہ حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6154]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک مسلمان آدمی اور ایک یہودی آدمی میں تلخ کلامی ہوئی،آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6154]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2373
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2374 ترقیم شاملہ: -- 6155
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَا أَدْرِي، أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ، فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ.
ابواحمد زبیری نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔ اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (یوں) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) مجھے معلوم نہیں وہ (موسیٰ علیہ السلام) ان میں سے تھے جنہیں بے ہوشی تو ہوئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا یا کوہ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6155]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انھوں نے (یوں)کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)"مجھے معلوم نہیں وہ (موسیٰ ؑ) ان میں سے تھے جنھیں بے ہوشی تو ہو ئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا۔یا کوہ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6155]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2374
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں