صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب من فضائل طلحة والزبير رضي الله عنهما:
باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2416 ترقیم شاملہ: -- 6245
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: " كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ، فَكَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً، فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً، فَيَنْظُرُ فَكُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي، إِذَا مَرَّ عَلَى فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ "، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي، فَقَالَ: وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي.
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے قلعے میں تھے، کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جاتے اور میں (ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو) دیکھ لیتا، کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دیکھ لیتے۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر (سوار ہو کر) بنو قریظہ کی طرف جانے کے لیے گزرے۔ (ہشام بن عروہ نے) کہا: مجھے عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے (روایت کرتے ہوئے) بتایا کہا: میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان!“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6245]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلعے میں تھے کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جا تے اور میں (ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو) دیکھ لیتا کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جا تا اور وہ دیکھ لیتے۔میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر(سوار ہو کر)بنو قریظہ کی طرف جا نے کے لیے گزرے۔(ہشام بن عروہ نے) کہا: مجھے عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (روایت کرتے ہو ئے) بتا یا کہا: میں نے یہ بات اپنے والد کو بتا ئی تو انھوں نے کہا: میرے بیٹے!تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہو ئے کہا: تھا "میرے ماں باپ تم پر قربان!" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6245]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2416
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2416 ترقیم شاملہ: -- 6246
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ، فِي الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں، اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث (کی سند) میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن (ان کا بیان کیا ہوا سارا) قصہ اس روایت میں شامل کر دیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انہوں نے (عبداللہ) ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6246]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جب غزوہ خندق پیش آیا،میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث (کی سند) میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن (ان کا بیان کیا ہوا سارا)قصہ اس روایت میں شامل کردیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انھوں نے (عبداللہ) ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6246]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2416
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة