🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب من فضائل طلحة والزبير رضي الله عنهما:
باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2418 ترقیم شاملہ: -- 6249
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
ابن نمیر اور عبدہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہارے دو والد (والد زبیر اور نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے (احد میں) زخم کھا لینے کے بعد (بھی) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6249]
ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے باپ نانا، اللہ کی قسم! ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [سورة آل عمران: 172] زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو مانا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2418 ترقیم شاملہ: -- 6250
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرَ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ مراد لے رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6250]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «أَبَوَاكَ» سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد ابوبکر اور زبیر رضی اللہ عنہما تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2418 ترقیم شاملہ: -- 6251
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
بہی نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: تمہارے دونوں والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6251]
حضرت عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: تیرا باپ، نانا، ان لوگوں میں داخل تھے جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے حکم کو قبول کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں