🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب المسح على الخفين:
باب: موزوں پر مسح کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 273 ترقیم شاملہ: -- 624
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ: ادْنُهْ، فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ، فَتَوَضَّأَ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ".
اعمش نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ ایک خاندان کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو میں دور ہٹ گیا۔ آپ نے فرمایا: قریب آ جاؤ۔ میں قریب ہو کر (دوسری طرف رخ کر کے) آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا (فراغت کے بعد) آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ (قریب کھڑا کرنے کا مقصد اس کی [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 624]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو میں دور ہٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آ جا! تو میں قریب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا، (فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 624]
ترقیم فوادعبدالباقی: 273
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 273 ترقیم شاملہ: -- 625
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: " كَانَ أَبُو مُوسَى، يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ، وَيَقُولُ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ، قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ، لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ، فَبَالَ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ، حَتَّى فَرَغَ ".
منصور نے ابووائل (شقیق) سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے: بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنے حصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا۔ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب (استاد) اس قدر سختی نہ کرے، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر آئے، آپ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتیٰ کہ آپ فارغ ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 625]
ابووائل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے سلسلے میں تشدد کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کیا کرتے تھے، اور بیان کرتے تھے کہ بنو اسرائیل کے کسی آدمی کے جسم پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنے حصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں چاہتا ہوں تمہارا استاد اس قدر سختی اختیار نہ کرے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کے پیچھے کوڑے کے ڈھیر پر پہنچے اور تمہاری طرح جا کر کھڑے ہو گئے اور پیشاب کرنا چاہا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ فرمایا، پھر میں خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقب میں کھڑا ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 273
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں