صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب فضائل حسان بن ثابت رضي الله عنه:
باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2487 ترقیم شاملہ: -- 6389
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَبَبْتُهُ، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي دَعْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا (تہمت لگانے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے تھے)، میں نے ان کو برا بھلا کہا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بھتیجے! ان کو کچھ نہ کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6389]
حضرت ہشام رحمۃ ا للہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا،میں نے ان کو برا بھلا کہا توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:بھتیجے!ان کو کچھ نہ کہو،کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2487 ترقیم شاملہ: -- 6390
حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6390]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة