صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب تفسير البر والإثم:
باب: بھلائی اور برائی کے معنی۔
ترقیم عبدالباقی: 2553 ترقیم شاملہ: -- 6516
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟ فَقَالَ: الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ".
ابن مہدی نے ہمیں معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”نیکی اچھا خلق ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6516]
حضرت نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْبِرُّ» (بر) اور «الْإِثْمُ» (اثم) کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ” «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ» “ ”بر حسن خلق ہے اور اثم وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکتا رہے اور تو اس بات کو مکروہ و ناپسند خیال کرے کہ لوگ اس سے آگاہ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6516]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2553
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2553 ترقیم شاملہ: -- 6517
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ ، قَالَ: أَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً مَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْهِجْرَةِ، إِلَّا الْمَسْأَلَةُ كَانَ أَحَدُنَا إِذَا هَاجَرَ لَمْ يَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ".
عبداللہ بن وہب نے کہا: مجھے معاویہ بن صالح نے (باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ) حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں ایک سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں مقیم رہا۔ مجھے سوالات کرنے کے سوا اور کوئی بات ہجرت کرنے سے نہیں روکتی تھی کیونکہ ہم میں سے جب کوئی ہجرت کر لیتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا تھا۔ کہا: (تو اسی دوران میں) میں نے آپ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی حسن خلق (اچھی عادات) کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6517]
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سال ٹھہرا رہا اور مجھے سوالات کرنے کے سوا کوئی چیز ہجرت کرنے سے مانع نہیں تھی، ہم میں سے کوئی ایک جب ہجرت کر لیتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا تھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْبِرُّ» اور «الْإِثْمُ» کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ” «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ» ”نیکی حسنِ خلق سے تعبیر ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکا پیدا کرے اور تم یہ ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا علم و آگہی ہو۔“” [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6517]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2553
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة