🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب نصر الاخ ظالما او مظلوما:
باب: اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو یا مظلوم ہر حال میں کرنے سے کیا مراد ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2584 ترقیم شاملہ: -- 6582
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ، وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَنَادَى الْمُهَاجِرُ أَوْ الْمُهَاجِرُونَ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، وَنَادَى الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا فَكَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، قَالَ: " فَلَا بَأْسَ وَلْيَنْصُرِ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے، ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور دوسرا لڑکا انصار میں سے۔ مہاجر نے پکار کر آواز دی: اے مہاجرین! اور انصاری نے پکار کر آواز دی: اے انصار! تو (اچانک) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ کیا زمانہ جاہلیت کی سی چیخ و پکار ہے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں، اللہ کے رسول! بس یہ دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے، آپ نے فرمایا: کوئی (بڑی) بات نہیں، اور ہر انسان کو اپنے بھائی کی، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، مدد کرنی چاہئے، اگر اس کا بھائی ظالم ہو تو اسے (ظلم سے) روکے، یہی اس کی مدد ہے، اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6582]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے، ایک غلام مہاجروں اور دوسرا انصار کا تھا؛ مہاجر غلام یا مہاجروں نے آواز بلند کی: «يَا لَلْمُهَاجِرِينَ» اے مہاجرو! مدد کرو اور انصاری نے پکارا: «يَا لَلْأَنْصَارِ» اے انصاریو! مدد کرو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خیمہ سے) نکلے اور فرمایا: یہ جاہلانہ پکار کیسی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کچھ نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف اتنی بات ہے کہ دو غلام لڑ پڑے (کیونکہ) ایک نے دوسرے کی سرین پر لات ماری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے، انسان کو اپنے بھائی کی مدد کرنا چاہیے، ظالم ہو یا مظلوم؛ اگر وہ ظلم کر رہا ہے تو اسے روکے، کیونکہ یہی اس کی نصرت ہے اور اگر مظلوم ہے تو اس کی مدد کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6582]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2584 ترقیم شاملہ: -- 6583
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ، فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ".
سفیان بن عیینہ نے کہا: عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک غزوے (غزوہ مریسیع) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہاں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر ضرب لگائی، انصاری نے کہا: اے انصار! (آؤ، مدد کرو) اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! (آؤ، مدد کرو۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی چیخ و پکار ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ہے، آپ نے فرمایا: (جب یہ اتنا چھوٹا سا معاملہ ہے تو جاہلی دور کی سی) اس (چیخ و پکار) کو چھوڑو۔ یہ ایک کریہہ اور بدبودار بات ہے۔ عبداللہ بن ابی نے یہ بات سنی تو کہنے لگا: (اچھا!) انہوں نے (ایسا) کیا ہے، اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا اسے، جو ذلت والا ہے، وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے چھوڑئیے، میں اس منافق کی گردن اڑاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6583]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، تو ایک مہاجر نے ایک انصاری کی دبر پر ہاتھ مارا۔ تو انصاری نے کہا: اے انصاریو! مدد کرو، اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرو! مدد کے لیے پہنچو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟» جاہلیت کی پکار کا سبب کیا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مہاجرین میں سے ایک آدمی نے ایک انصاری آدمی کی دبر پر ہاتھ مارا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» اس پکار کو چھوڑو، کیونکہ یہ تو بدبو اور ناپسندیدہ ہے۔ اس واقعہ کو عبداللہ بن ابی نے سن لیا تو کہنے لگا: کیا انہوں نے یہ کام کیا ہے؟ اللہ کی قسم! ﴿لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] اگر ہم مدینہ واپس گئے تو عزیز تر آدمی ذلیل تر آدمی کو باہر نکال دے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے اجازت دیجیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دَعْهُ، لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ» اسے چھوڑ دو، لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو ہی قتل کروا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6583]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2584 ترقیم شاملہ: -- 6584
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ "، قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا.
اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور اور محمد بن رافع نے ہمیں حدیث بیان کی۔ ابن رافع نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی جبکہ دوسرے دونوں نے کہا: خبر دی۔ عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے ایوب سے خبر دی، انہوں نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بدلہ دلوانے کی درخواست کی، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری کاروائی کے بعد) لوگوں سے کہا: اس (چیخ و پکار اور فساد انگیزی) کو چھوڑ دو، یہ ایک کریہہ اور بدبودار (حرکت) ہے۔ ابن منصور نے اپنی روایت میں عمرو سے روایت کرتے ہوئے صراحت کی کہ عمرو نے کہا: میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6584]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری آدمی کی دبر پر ہاتھ مارا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قصاص کا مطالبہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس انداز کو چھوڑ دو کیونکہ یہ بدبودار ہے۔ یعنی یہ پکار ناشائستہ اور قبیح حرکت ہے، ابن منصور کی روایت میں عمرو بن دینار کے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سننے کی صراحت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6584]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں