صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب وجوب غسل البول وغيره من النجاسات إذا حصلت في المسجد وان الارض تطهر بالماء من غير حاجة إلى حفرها:
باب: پیشاب یا نجاست وغیرہ اگر مسجد میں پائی جائیں تو ان کے دھونے کے وجوب اور زمین پانی سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کو کھودنے کی ضرورت نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 284 ترقیم شاملہ: -- 659
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَلَا تُزْرِمُوهُ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب (کرنا شروع) کر دیا، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اسے (پیشاب کے) درمیان میں مت روکو۔“ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ (پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کے اندر چلا گیا۔) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 659]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، بعض لوگ اس کی طرف اٹھ کر چلے (تاکہ اس کو روک دیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑو، اس کا پیشاب درمیان میں مت روکو۔“ جب وہ فارغ ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ڈول منگوایا، اور اسے اس پر ڈال دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 284 ترقیم شاملہ: -- 660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَبَالَ فِيهَا فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ "، فَلَمَّا فَرَغَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ.
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ جب وہ فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی کا) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس (پیشاب) پر بہا دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 660]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا، اس پر لوگ چلائے (اس کو آواز دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑو۔“ جب وہ فارغ ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بول پر پانی سے بھرے ہوئے ڈول کے ڈالنے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 660]
ترقیم فوادعبدالباقی: 284
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة