🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب من لعنه النبي صلى الله عليه وسلم او سبه او دعا عليه وليس هو اهلا لذلك كان له زكاة واجرا ورحمة:
باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2600 ترقیم شاملہ: -- 6614
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ، قَالَ: وَمَا ذَاكِ، قَالَتْ: قُلْتُ: لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا، قَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی: کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو (وہ) ان دونوں کو نہیں ملی۔ آپ نے فرمایا: وہ کیسے؟ کہا: میں نے عرض کی: آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے: اے اللہ! میں صرف بشر ہوں، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس (لعنت اور برا بھلا کہنے) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6614]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو آدمی حاضر ہوئے اور آپ سے کسی چیز کے بارے میں گفتگو کی، مجھے معلوم نہیں وہ کیا مسئلہ تھا تو آپ کو غصہ دلا دیا، چنانچہ آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور سخت کلامی کی، تو جب وہ دونوں چلے گئے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور کسی کو تو خیر میسر آسکتی ہے یہ دونوں تو اس کو حاصل نہیں کر سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیوں؟ میں نے کہا: آپ نے ان پر لعنت بھیجی ہے اور ان کو برا بھلا کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا طے کیا ہے، کیا شرط کی ہے؟ میں نے کہا ہے: «اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا» اے اللہ! میں صرف بشر ہوں (الہ نہیں ہوں) تو جس مسلمان پر میں لعنت بھیجوں یا اس کو برا بھلا کہوں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور اجر کا باعث بنا دے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6614]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2600
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2600 ترقیم شاملہ: -- 6615
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وقَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَى: فَخَلَوَا بِهِ، فَسَبَّهُمَا، وَلَعَنَهُمَا، وَأَخْرَجَهُمَا.
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، اور عیسیٰ (بن یونس) کی حدیث میں کہا: وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں ملے تو آپ نے انہیں برا بھلا کہا، ان دونوں پر لعنت بھیجی اور ان کو نکال دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6615]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، عیسیٰ کی حدیث میں یہ ہے، ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلوت میں بات کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا بھلا کہا اور لعنت بھیجی اور ان کو نکلوا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6615]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2600
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں