صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب من لعنه النبي صلى الله عليه وسلم او سبه او دعا عليه وليس هو اهلا لذلك كان له زكاة واجرا ورحمة:
باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں صرف ایک بشر ہوں، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی (کا ذریعہ) اور رحمت بنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6616]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً» ”اے اللہ! میں ایک بشر ہی ہوں (غصہ میں آ سکتا ہوں) تو جس مسلمان آدمی کو میں برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت بھیجوں، یا اس کو سزا دوں تو اس چیز کو اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔““ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6616]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6619
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
مغیرہ بن عبدالرحمان حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے عہد لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ میں ایک بشر ہی ہوں، میں جس کسی مومن کو تکلیف پہنچاؤں، اسے برا بھلا کہوں، اس پر لعنت کروں، اسے کوڑے ماروں تو ان تمام باتوں کو قیامت کے دن اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6619]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے یہ عہد لیتا ہوں، تو میرے ساتھ اس کے خلاف نہیں کرے گا، میں ایک بشر ہی تو ہوں، اس لیے جس مومن کو میں نے اذیت دی ہے، اس کو سخت سست کہا ہے، اس پر لعنت بھیجی ہے، اس کو سزا دی ہے، تو اس کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے تو اسے قیامت کے روز تقرب بخشے۔““ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6619]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6620
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَوْ جَلَدُّهُ، قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ.
ابوزناد نے ہمیں اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی، البتہ انہوں نے ”او جلدۃ“ کہا۔ ابوزناد نے کہا: یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبان ہے۔ (قریش کی زبان میں) یہ لفظ ”جلدتہ“ ہی ہے۔ (معنی ایک ہی ہے، یعنی جسے میں کوڑے ماروں۔) [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6620]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں «جَلْدَتُهُ» کی جگہ «جَلَدُهُ» ہے، ابوالزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: «جَلَدُهُ» ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت ہے، اصل میں «جَلْدَتُهُ» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6620]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6621
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ایوب نے عبدالرحمان اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6621]
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے مذکورہ روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6621]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6622
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، وَإِنِّي قَدِ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ (دعا کرتے ہوئے) فرما رہے تھے: ”اے اللہ! محمد ایک بشر ہی ہے، جس طرح ایک بشر کو غصہ آتا ہے، اسے بھی غصہ آتا ہے اور میں تیرے حضور ایک وعدہ لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ جس مومن کو بھی میں نے تکلیف پہنچائی، اسے برا بھلا کہا یا کوڑے سے مارا تو اس سب کچھ کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دینا اور ایسی قربت میں بدل دینا جس کے ذریعے سے قیامت کے دن تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6622]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ” «اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ، يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، وَإِنِّي قَدِ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بشر ہی ہے، جس طرح بشر کو غصہ آتا ہے، اسے بھی غصہ آتا ہے اور میں تجھ سے عہد لیتا ہوں، جس کی تو ہرگز میرے ساتھ خلاف ورزی نہیں فرمائے گا۔ جس مومن کو میں نے اذیت دی ہے یا اسے برا بھلا کہا ہے یا میں نے اسے کوڑے مارے ہیں تو اس کو اس کے لیے کفارہ اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے تو اسے قیامت کے روز تقرب بخش دے۔“” [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6622]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6623
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ (دعا کرتے ہوئے) فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں جس بندہ مومن کو برا بھلا کہوں تو اس کے لیے اسے قیامت کے دن اپنی قربت میں بدل دینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6623]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: «اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! جس مسلمان بندے کو میں نے برا بھلا کہا ہے، تو اسے اس کے لیے قیامت کے دن اپنی نزدیکی کا سبب بنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6623]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6624
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ كَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ (دعا کرتے ہوئے) فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں نے تیرے حضور پختہ عہد لیا ہے جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ کوئی بھی مومن جسے میں نے تکلیف پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے سے مارا ہو، اسے تو قیامت کے دن اس کے لیے (گناہوں کا) کفارہ بنا دینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6624]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ كَفَّارَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں نے تجھ سے عہد لیا جس کی تو میرے ساتھ خلاف ورزی نہیں فرمائے گا، جس مومن کو میں نے برا کہا ہے، یا اسے کوڑے لگائے ہیں، اس کو اس کے لیے قیامت کے دن کفارہ بنا دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6624]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة