صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب في الحض على التوبة والفرح بها:
باب: توبہ کی ترغیب دینے اور توبہ کرنے پر خوش ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2744 ترقیم شاملہ: -- 6955
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ حَدِيثًا عَنْ نَفْسِهِ، وَحَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ، فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ، ثُمَّ قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِيَ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ، فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ، فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ " وَزَادِهِ،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے اور انہوں نے حارث بن سوید سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے ہاں حاضر ہوا، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے ہمیں وہ حدیثیں بیان کیں، ایک حدیث اپنی طرف سے اور ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ آدمی (خوش ہوتا ہے) جو ہلاکت خیز سنسان اور بے آب و گیاہ میدان میں ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، اس (سواری) پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو، وہ (تھکا ہارا کچھ دیر کے لیے) سو جائے اور جب جاگے تو سواری جا چکی ہو۔ وہ ڈھونڈتا رہے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے، پھر وہ کہے: میں جہاں پر تھا، اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں، یہاں تک کہ (اس نیند کے عالم میں) مجھے موت آ جائے۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے اور (اچانک) اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادراہ کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو۔ تو اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ آدمی اپنی سواری اور زادراہ سے خوش ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6955]
حارث بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا کیونکہ وہ بیمار تھے، تو انہوں نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں، ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہلاکت خیز جنگل میں ہے، اس کے پاس اس کی سواری ہے جس پر اس کے کھانے پینے کی اشیاء ہیں، وہ سو کر بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی سواری جا چکی ہے، وہ اس کو تلاش کرتا ہے حتیٰ کہ اس کو پیاس لگ جاتی ہے، تو وہ کہتا ہے: میں واپس اس جگہ جاتا ہوں جہاں میں پہلے تھا اور سو جاتا ہوں حتیٰ کہ فوت ہو جاؤں، وہ اپنی کلائی پر مرنے کے لیے سر رکھ کر سو جاتا ہے، پھر وہ بیدار ہوتا ہے اور اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہوتی ہے اور اس پر اس کا زادِ راہ اور اس کا کھانا اور مشروب بھی موجود ہے، تو اللہ کو اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس کو اپنی سواری اور زادِ راہ ملنے سے ہوئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2744
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2744 ترقیم شاملہ: -- 6956
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: مِنْ رَجُلٍ بِدَاوِيَّةٍ مِنَ الْأَرْضِ،
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”اس آدمی کی نسبت (زیادہ خوش ہوتا ہے) جو زمین کے سنسان بے آب و گیاہ صحرا میں ہو۔“ دویۃ کے بجائے داویۃ کا لفظ بولا، (معنی ایک ہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6956]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، «فِي أَرْضٍ دَوِيَّةٍ» کی بجائے «بِدَاوِيَةٍ مِنَ الْأَرْضِ» ہے، معنی ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2744
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2744 ترقیم شاملہ: -- 6957
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عمارہ بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حارث بن سوید سے سنا، کہا: مجھے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے وہ حدیثیں بیان کیں، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (نقل کرتے ہوئے) اور دوسری اپنی طرف سے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے (اس آدمی کی نسبت) زیادہ خوش ہوتا ہے“ (آگے) جریر کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6957]
حارث بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دو حدیثیں سنائیں، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری اپنی طرف سے، انہوں نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ سے زیادہ خوش ہوتا ہے،“ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے لیکن دوسری حدیث جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اس کو چھوڑ دیا، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے وہ حدیث بھی بیان کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: مومن بندہ سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے وہ اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھا ہے اور ڈر رہا ہے کہ پہاڑ اس پر گر نہ جائے اور فاجر اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے کہ مکھی اس کی ناک پر بیٹھ گئی ہے تو وہ اس کو ہاتھ کے اشارے سے اڑا دیتا ہے۔ (کتاب الدعوات، حدیث نمبر: 6308) [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2744
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة