🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب في الحض على التوبة والفرح بها:
باب: توبہ کی ترغیب دینے اور توبہ کرنے پر خوش ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2744 ترقیم شاملہ: -- 6955
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ حَدِيثًا عَنْ نَفْسِهِ، وَحَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ، فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ، ثُمَّ قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِيَ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ، فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ، فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ " وَزَادِهِ،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے اور انہوں نے حارث بن سوید سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے ہاں حاضر ہوا، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے ہمیں وہ حدیثیں بیان کیں، ایک حدیث اپنی طرف سے اور ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ آدمی (خوش ہوتا ہے) جو ہلاکت خیز سنسان اور بے آب و گیاہ میدان میں ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، اس (سواری) پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو، وہ (تھکا ہارا کچھ دیر کے لیے) سو جائے اور جب جاگے تو سواری جا چکی ہو۔ وہ ڈھونڈتا رہے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے، پھر وہ کہے: میں جہاں پر تھا، اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں، یہاں تک کہ (اس نیند کے عالم میں) مجھے موت آ جائے۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے اور (اچانک) اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادراہ کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو۔ تو اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ آدمی اپنی سواری اور زادراہ سے خوش ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6955]
حارث بن سوید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا کیونکہ بیمار تھے تو انھوں نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے بتایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ یقیناً" اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے، اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہلاکت خیز جنگل میں ہے اس کے پاس اس کی سواری ہے، جس پر اس کے کھانے پینے کی اشیاء ہیں، وہ سو کر بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے، اس کی سواری جا چکی ہے، وہ اس کو تلاش کرتا ہے، حتی کہ اس کو پیاس لگ جاتی ہے تو وہ کہتا ہے میں واپس اس جگہ جاتا ہوں جہاں میں پہلے تھا اور سوجاتا ہوں۔حتی کہ فوت ہو جاؤں وہ اپنی کلائی پر مرنے کے لیے سر رکھ کر سوجاتا ہے پھر وہ بیدار ہوتا ہے اور اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہوتی ہے اور اس پر اس کا زادراہ اور اس کاکھانا اور مشروب بھی موجود ہے تو اللہ کو اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس کو اپنی سواری اور زادراہ ملنے سے ہوئی ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2744
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥الحارث بن سويد التيمي، أبو عائشة
Newالحارث بن سويد التيمي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥عمارة بن عمير التيمي
Newعمارة بن عمير التيمي ← الحارث بن سويد التيمي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمارة بن عمير التيمي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← إسحاق بن راهويه المروزي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6955
لله أشد فرحا بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها
جامع الترمذي
3538
لله أفرح بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها
سنن ابن ماجه
4247
الله أفرح بتوبة أحدكم منه بضالته إذا وجدها
صحيفة همام بن منبه
80
لله أشد فرحا بتوبة عبده إذا تاب من أحدكم براحلته إذا وجدها
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6955 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6955
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
دوية اور داوية:
جنگل،
بیابان،
بنجرعلاقہ،
(2)
مهلكة:
وہ جگہ جہاں ہلاکت اور تباہی کا خطرہ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6955]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4247
توبہ کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گمشدہ چیز پانے سے خوش ہوتے ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4247]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ گناہ سے توبہ کرتا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوجاتا ہے۔

(2)
بندے کو جب احساس ہوجائے کہ اس نے گناہ کیا ہے۔
خواہ وہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا۔
براہ راست اللہ کے آگے توبہ کرے۔
یعنی اپنی غلطی کا اعتراف کرکے آئندہ کے لئے یہ عزم اور وعدہ کرے کہ وہ اس گناہ سے بچ کررہے گا۔

(3)
توبہ بندے اور اللہ کا معاملہ ہے۔
اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت نہیں البتہ کسی نیک آدمی کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے نیکی کا عزم کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے۔
کہ پہلے انسان اس عالم کی شرم سے گناہ سے بچتا ہے۔
پھر براہ راست اللہ کی شرم سے گناہ سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔
تاہم یہ ضروری نہیں تنہائی میں توبہ کرکے اللہ سے استقامت کی دعا کرے تو کافی ہے۔

(4 جس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔
اس کے ارتکاب کی صورت میں وہ حق ادا کرنا یا صاحب حق سے معاف کروانا ضروری ہے۔
ورنہ توبہ مکمل نہیں ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4247]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3538
توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی چیز (خاص طور سے گمشدہ سواری کی اونٹنی پا کر خوش ہوتا ہے)۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3538]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ بندوں کے ساتھ اللہ کے کمال رحمت کی دلیل ہے،
اسی کمالِ رحمت کے سبب اللہ بندوں کی گمراہی،
یا نافرمانی کی روش سے ازحد ناخوش ہوتا ہے،
اور توبہ کر لینے پر ازحد خوش ہوتا ہے کہ اب بندہ میری رحمت کا مستحق ہو گیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3538]