🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب فناء الدنيا وبيان الحشر يوم القيامة:
باب: دنیا کے فنا اور حشر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2860 ترقیم شاملہ: -- 7200
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا "، وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے روایت کی، اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقیوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: «إنكم ملاقو الله مشاة حفاة عراة غرلا» بے شک تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم چل رہے ہو، ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ۔ زہیر نے اپنی حدیث میں خطبہ دیتے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7200]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہوئے سنا: یقیناً تم اللہ کو ملو گے، ننگے جسم، غیر مختون، پیدل چل کر۔ زہیر کی حدیث میں خطبہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2860 ترقیم شاملہ: -- 7201
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104، أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ، إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، قَالَ: فَيُقَالُ لِي: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ "، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمُعَاذ، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.
وکیع اور معاذ دونوں نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، نیز محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مغیرہ بن نعمان سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں بے لباس بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔ (قرآن مجید میں ہے): ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ (الأنبياء: 104) ’جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں۔‘ یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنھیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انھیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ۝ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (المائدة: 117-118) ’میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے۔‘ فرمایا: تو مجھ سے کہا جائے گا جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7201]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، بے لباس، بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ ﴿جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں﴾ [سورة الأنبياء: 104] ۔ یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنہیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انہیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ * إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ﴿میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے﴾ [سورة المائدة: 117-118] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جواب دیا جائے گا: جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں