صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب اقتراب الفتن وفتح ردم ياجوج وماجوج:
باب: فتنوں کے قریب ہونے اور یاجوج و ماجوج کی آڑ کھلنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7235
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ "، وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ، قَالَ: نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ "،
عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ فرما رہے تھے: ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے جو قریب آ پہنچا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اس قدر جگہ کھل گئی ہے۔“ اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ بنایا۔ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے عرض کی: ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے، پھر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ فرمایا: ”ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7235]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے یہ فرماتے ہوئے بیدار ہوئے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» ”اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، عربوں کے لیے اس شر سے تباہی ہے جو قریب آ چکا ہے، اس وقت یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے“۔ سفیان نے اس کی وضاحت کے لیے دس کے عدد کی گرہ لگائی، یعنی انگوٹھا اور شہادت کی انگلی سے حلقہ بنایا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم نیک بندوں کے موجود ہونے کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب فسق و فجور کی خباثت و گندگی بڑھ جائے گی“۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7236
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادُوا فِي الْإِسْنَادِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالُوا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ .
ابوبکر بن ابی شیبہ، سعید بن عمرو اشعثی، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور انہوں نے سفیان سے بیان کردہ روایت کی سند میں مزید کہا: زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے حبیبہ سے، انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7236]
امام مسلم نے مذکورہ بالا روایت بہت سے اساتذہ کی ایک ہی سند سے بیان کی ہے، فرق یہ ہے کہ اوپر کی سند میں تین صحابیات تھیں اور یہاں چار صحابیات ہیں، جو ایک دوسرے سے بیان کرتی ہیں یعنی زینب بنت اُم سلمہ اور حبیبہ رضی اللہ عنہما (یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ ہیں)، اُم حبیبہ اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما (یہ دونوں زوجہ ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7237
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ، قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ، قَالَ: " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ "،
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ انھیں زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں سرخ چہرے کے ساتھ (خواب گاہ سے) نکلے۔ آپ فرما رہے تھے: ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے جو اب قریب آ پہنچا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اس قدر کھل گئی ہے۔“ اور آپ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنایا۔ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو میں نے عرض کی: ہم میں نیک لوگ موجود ہوں، یا پھر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب شر اور گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7237]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھبرائے ہوئے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی (شہادت) سے حلقہ بنایا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے، جبکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب گندگی بڑھ جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2880 ترقیم شاملہ: -- 7238
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ.
عقیل بن خالد اور صالح دونوں نے ابن شہاب (زہری) سے یونس کی زہری سے حدیث کے مطابق اور اسی کی سند سے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7238]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة