🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب ذكر الدجال :
باب: دجال کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 425
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رَجَّلَهَا، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ، أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ، قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ".
مالک (بن انس) نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک رات اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا، گندم گوں لوگوں میں سے سب سے خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو، ان کی لمبی لمبی لٹیں تھیں جو ان لٹوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں جنہیں تم دیکھتے ہو، ان کو کنگھی کی ہوئی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کا (یا دو آدمیوں کے کندھوں کا) سہارا لیا ہوا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ کہا گیا: ’یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں۔‘ پھر اچانک میں نے ایک آدمی دیکھا، الجھے ہوئے گھنگریالے بالوں والا، دائیں آنکھ کانی تھی، جیسے انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہو، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ تو کہا گیا: ’یہ مسیح دجال (جھوٹا یا مصنوعی مسیح) ہے۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 425]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک رات اپنے آپ کو (خواب میں) کعبہ کے پاس دیکھا، تو میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا، جو گندمی رنگ مرد تو نے دیکھے ہیں ان میں سب سے زیادہ خوبصورت گندمی رنگ کا تھا۔ اس کے کنگھی کیے ہوئے کانوں کی لو سے نیچے تک آنے والے بہت خوبصورت بال تھے، جیسے تو نے کانوں کی لو سے نیچے آنے والے سب سے زیادہ خوبصورت بال دیکھے ہوں۔ ان بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ دو آدمیوں پر یا دو آدمیوں کے کندھوں کا سہارا لے کر بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ جواب دیا گیا: یہ مسیح بن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھر میں نے ایک آدمی دیکھا جس کے بال بہت زیادہ گھنگریالے تھے۔ دائیں آنکھ کانی تھی، گویا کہ وہ ابھرا ہوا انگور ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 425]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في (صحيحه)) في اللباس، باب: الجعد برقم (5902) وفي التعبير، باب: رويا الليل برقم (6999) انظر ((التحفة)) برقم (8373)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 426
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ، رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ، وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ".
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے، خبردار رہنا! مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے جیسے انگور کا بے نور دانہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے رات اپنے آپ کو نیند میں کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا، گندم گوں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو۔ اس کے سر کی لٹیں کندھوں کے درمیان تک لٹک رہی تھیں، بال کنگھی کیے ہوئے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اور ان دونوں کے درمیان بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ تو انہوں نے (جواب دینے والوں نے) کہا: ’یہ مسیح ابن مریم ہیں۔‘ میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی دیکھا، اس کے بال الجھے ہوئے گھنگریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں وہ سب سے زیادہ (عبدالعزیٰ) ابن قطن کے مشابہ تھا، اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’یہ مسیح دجال ہے۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 426]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ خبردار رہنا! مسیح دجال کی دائیں آنکھ کانی ہے، گویا کہ وہ پھولا ہوا انگور ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات اپنے آپ کو خواب میں کعبہ کے پاس دیکھا، تو اچانک میری نظر ایک آدمی پر پڑی جو گندمی رنگ، انتہائی خوبصورت گندمی رنگ مرد جو کبھی تم نے دیکھا ہے، اس کے سر کے بال کندھوں کے درمیان لٹکے ہوئے تھے، ان میں کنگھی کی ہوئی تھی (وہ بال کنگھی کیے ہوئے تھے)، وہ ان کے درمیان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، تو میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو انہوں (فرشتوں) نے جواب دیا: مسیح ابن مریم علیہ السلام ہے، اور میں نے اس کے پیچھے ایک آدمی دیکھا جس کے بال انتہائی گھنگریالے تھے، دائیں آنکھ کانی تھی۔ جن لوگوں کو میں نے دیکھا ان میں سے سب سے زیادہ ابن قطن کے مشابہ تھا۔ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، تو میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ مسیح دجال (بہت جھوٹا) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 426]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: قول الله ﴿ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا ﴾ برقم (3439 و 3440) ومسلم في ((صحيحه)) في الفتن، باب: ذكر الدجال وصفته وما معه برقم (7289) انظر ((التحفة)) برقم ((8464)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 427
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، رَجُلًا آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَجُلَيْنِ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَ: وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ".
حنظلہ نے سالم کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کعبہ کے پاس ایک گندم گوں، سر کے سیدھے کھلے بالوں والے آدمی کو دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں پر رکھے ہوئے تھا، اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا (یا اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے)، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ تو انہوں نے (جواب دینے والوں نے) کہا: ’عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم‘ (راوی کو یاد نہ تھا کہ دونوں میں سے کون سا لفظ کہا تھا) اور ان کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا: سرخ رنگ کا، سر کے بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے، ان میں سب سے زیادہ ابن قطن اس کے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’مسیح دجال ہے۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 427]
ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آپ نے فرمایا: میں نے ایک رات اپنے آپ کو کعبہ کے پاس خواب میں دیکھا، ایک شخص گندمی رنگ، انتہائی خوبصورت گندمی رنگ کا مرد جو کبھی تم نے دیکھا ہے۔ اس کے سر کے بال کندھوں کے درمیان تک لٹکے ہوئے تھے، اور ان میں کنگھی کی ہوئی تھی، سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھا، اور وہ دونوں کے درمیان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مسیح بن مریم علیہ السلام ہیں۔ اور اس کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا، جس کے بال سخت گھنگریالے تھے، دائیں آنکھ کانی تھی، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ابن قطن ان کے مشابہ تھا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 427]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (6755)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 7356
قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ "، وَقَالَ: " تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى يَمُوتَ "،
سالم نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف کی جس کا وہ اہل ہے، پھر آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: میں تمھیں اس سے خبردار کر رہا ہوں، اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا ہے، بے شک حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا، لیکن میں تمھیں اس کے متعلق ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی، اچھی طرح جان لو کہ وہ کانا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے عمر بن ثابت انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے (روایت کرتے ہوئے) خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس روز لوگوں کو دجال کے بارے میں خبردار کیا تو فرمایا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہے: ’كافر‘ ہر وہ آدمی جو اس کے عمل کو ناپسند کرے گا اسے پڑھ لے گا یا (فرمایا:) ہر مومن اسے پڑھ لے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی مرنے تک اپنے رب عزوجل کو ہرگز نہیں دیکھ سکے گا۔ (جبکہ دجال کو سب لوگ دیکھ رہے ہوں گے۔) [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7356]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطاب کے لیے کھڑے ہوئے اللہ کے شایان شان اس کی تعریف بیان کی، پھر دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:"میں تمھیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اس سے اپنی قوم کو خبردار کیا ہے نوح ؑ نے بھی قوم کو اس سے آگاہ کیا لیکن میں تمھیں اس کے بارے میں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی جان لو! وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ یقیناً کانا نہیں ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7356]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 7361
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ "،
عبید اللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے، سن رکھو! بلاشبہ مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔ اس کی آنکھ اس طرح ہے جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7361]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:"اللہ تعالیٰ کا نا نہیں ہے خبردار!مسیح دجال کی دائیں آنکھ کانی ہے، گویا آنکھ پھولا ہوا نگور ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 7362
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ایوب اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7362]
امام تین اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں