صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2961 ترقیم شاملہ: -- 7425
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ: " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ؟، فَقَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ "،
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ عمرو بن عوف جو بنی عامر کے حلیف تھے، انہوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی، انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جزیہ لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے آئے، انصار نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، واپس ہوئے تو وہ (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں دیکھا تو مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے بجا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اور اس کی امید رکھو جس سے تمھیں خوشی ہو گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں (کہ تمھیں اس سے نقصان پہنچے گا) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمھیں بھی تباہ کر دے گی جس طرح اس نے ان کو تباہ کر دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7425]
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بنی عامربن لوی کے حلیف تھے،انھوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی،انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جذیہ لے آئیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا،حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحرین سے مال لے آئے،انصار نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کرلی،واپس ہوئے تو وہ(صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنے ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں دیکھا تو مسکرادیئے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟انھوں نے کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے بجا فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛"خوش ہوجاؤ اور اس کی اُمید رکھو جس سے تمھیں خوشی ہوگی۔اللہ کی قسم! مجھےتم پرفقر کا خوف نہیں(کہ تمھیں اس سے نقصان پہنچےگا) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کردی گئی تھی۔پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمھیں بھی تباہ کردےگی جس طرح اس نے ان کو تباہ کردیا تھا۔" [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7425]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2961 ترقیم شاملہ: -- 7426
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ، وَمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ، وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ.
صالح اور شعیب دونوں نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر صالح کی حدیث میں ہے: ”اور یہ تمھیں بھی اس طرح لبھائے گی (دنیا میں مگن اور آخرت سے غافل کر دے گی) جس طرح اس نے ان کو لبھایا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7426]
صالح اور شعیب دونوں نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند روایت کی،مگر صالح کی حدیث میں ہے:"اور یہ تمھیں بھی اس طرح لبھائے گی (دنیا میں مگن اور آخرت سے غافل کردے گی) جس طرح اس نے ان کو لبھایا تھا۔" [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7426]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة