صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة وإنه إذا لم يحسن الفاتحة ولا امكنه تعلمها قرا ما تيسر له من غيرها:
باب: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا وجوب، اور جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو، اس کے لیے قرآن میں اس کے علاوہ جو آسان ہو اس کوپڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 397 ترقیم شاملہ: -- 885
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ، قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ، صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي، قَالَ: إِذَ قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا ".
یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے سعید بن ابی سعید نے اپنے والد (کسان بن سعد) سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک آدمی مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز ادا کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیکم السلام کہا اور فرمایا: ”واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ تین دفعہ ایسا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے سکھلا دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو «اللہ اکبر» کہو اور پھر جتنا تم کو قرآن یاد ہے وہ پڑھو، پھر رکوع کرو حتیٰ کہ رکوع میں تمہیں اتمام ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ حتیٰ کہ اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو حتیٰ کہ سجدے میں اطمینان ہو، پھر سر اٹھاؤ حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر پوری نماز میں اسی طرح کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 885]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، تو ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھی، پھر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تیری نماز نہیں ہوئی۔“ اس آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وَعَلَيْكَ السَّلَامُ“ پھر فرمایا: ”واپس جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ کیا تو اس آدمی نے عرض کیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے، میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکھا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر جو قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو، اس کو پڑھو، پھر اچھی طرح اطمینان کے ساتھ رکوع کرو، پھر رکوع سے سیدھے اچھی طرح اٹھو، پھر اچھی طرح اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سجدہ سے اٹھ کر اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 885]
ترقیم فوادعبدالباقی: 397
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 397 ترقیم شاملہ: -- 886
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ، وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَزَادَا فِيهِ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ ".
ابواسامہ اور عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جانب (تشریف فرما) تھے ... پھر دونوں نے اسی واقعے کی مانند حدیث بیان کی اور (حدیث کے حصے) میں ان دونوں نے یہ اضافہ کیا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو خوب اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلے کی طرف رخ کرو، پھر تکبیر کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 886]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، پھر اوپر والے واقعے کے ساتھ حدیث بیان کی، اور اس میں یہ اضافہ کیا، ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو مکمل وضو کرو پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 886]
ترقیم فوادعبدالباقی: 397
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة