صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة:
باب: بسم اللہ کو بلند آواز سے نہ پڑھنے والوں کی دلیل۔
ترقیم عبدالباقی: 399 ترقیم شاملہ: -- 890
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ كِلَاهُمَا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ".
ہم سے محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے ان میں سے کسی کو «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھتے نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 890]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے ان میں سے کسی سے بلند آواز میں ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ کی قراءت نہیں سنی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 890]
ترقیم فوادعبدالباقی: 399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 399 ترقیم شاملہ: -- 891
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَنَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ.
محمد بن (جعفر کے بجائے) ابوداؤد نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی اور یہ اضافہ کیا کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: کیا آپ نے یہ روایت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے اس کے بارے میں پوچھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 891]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے کہ شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ روایت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 891]
ترقیم فوادعبدالباقی: 399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 399 ترقیم شاملہ: -- 892
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تبارك اسمك وتعالى جدك، ولا إله غيرك، وعن قتادة : أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ، وَلَا فِي آخِرِهَا ".
اوزاعی نے عبدہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» (اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔ تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری عظمت و شان بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں)۔ (نیز اوزاعی ہی کی) قتادہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے (اپنی) روایت کی خبر دیتے ہوئے ان (اوزاعی) کی طرف لکھ بھیجا کہ انہوں (انس رضی اللہ عنہ) نے قتادہ کو حدیث سنائی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ (نماز کا) آغاز «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے کرتے تھے، وہ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» (بلند آواز سے) نہیں کہتے تھے، نہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ہی (دوسری سورت کے آغاز پر)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 892]
عبدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو اپنی حمد و توصیف کے ساتھ، پاکیزگی و تقدس سے متصف ہے، تیرا نام ہی بابرکت ہے اور تیری عظمت و بزرگی بلند و بالا ہے، تیرے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں“۔ انس رضی اللہ عنہ نے قتادہ رحمہ اللہ کو بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ نماز کا آغاز «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے کرتے تھے، وہ قراءت کے شروع میں اور نہ ہی آخر میں «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 892]
ترقیم فوادعبدالباقی: 399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 399 ترقیم شاملہ: -- 893
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ ذَلِكَ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بتایا کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ یہی (سابقہ) حدیث بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 893]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 893]
ترقیم فوادعبدالباقی: 399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة