🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
191. باب في السلام
باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، قَالَ زُهَيْرٌ: أُرَاهُ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں؟ نماز میں سکون سے رہا کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1000]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور لوگ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ زہیر نے کہا: میرا خیال ہے کہ شیخ نے کہا تھا کہ نماز میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، تم اپنے ہاتھ اٹھاتے ہو جیسے کہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں۔ نماز میں سکون اختیار کیا کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الصلاة 27 (430)، سنن النسائی/السہو 5 (1185)، (تحفة الأشراف: 2128)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/86، 88، 93، 101، 102، 107) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (661)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 998
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، وَوَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ:" مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُرْمِي بِيَدِهِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا"، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے دائیں اور بائیں اشارے کرتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی (نماز میں) اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہے، گویا اس کا ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہے، تم میں سے ہر ایک کو بس اتنا کافی ہے (یا یہ کہا: کیا تم میں سے ہر ایک کو اس طرح کرنا کافی نہیں؟)، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ دائیں اور بائیں طرف کے اپنے بھائی کو سلام کرے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 998]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو سلام کہتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے یوں اشارے کرتے ہو گویا وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تمہیں یہی کافی ہے۔ یا فرمایا: کیا تمہارے ایک کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ یوں کرے اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا، اپنے بھائی پر دائیں اور بائیں جانب سلام کہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 27 (431)، سنن النسائی/السھو 5 (1186)، 69 (1319)، 72 (1327)، (تحفة الأشراف: 2207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/86، 88، 93، 101، 102، 107) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (431)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں