سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
باب: وضو کرتے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 101
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے وضو کے شروع میں «بسم الله» نہیں کہا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 101]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں اور جو شخص وضو کے شروع میں اللہ کا نام نہ لے ( «بِسْمِ اللّٰهِ» نہ پڑھے) اس کا وضو نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 41 (399)، (تحفة الأشراف: 13476)، سنن الترمذی/الطہارة 20 (25)، سنن النسائی/الطہارة 62 (78)، مسند احمد (2/418) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (403)
وللحديث شواهد منها ما أخرجه ابن ماجه (397) وسنده حسن
مشكوة المصابيح (403)
وللحديث شواهد منها ما أخرجه ابن ماجه (397) وسنده حسن
حدیث نمبر: 59
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ".
ابوالملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 59]
ابو ملیح اپنے والد (سیدنا اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ خیانت کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں فرماتا اور نہ کوئی نماز وضو کے بغیر قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 59]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 104 (139)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 2 (271)، (تحفة الأشراف: 132)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة2 (224)، مسند احمد (5/74، 75)، سنن الدارمی/الطھارة 21 (713) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ورواية شعبة عن قتادة محمولة علي السماع
ورواية شعبة عن قتادة محمولة علي السماع
حدیث نمبر: 60
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص بے وضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بے وضو انسان کی نماز قبول نہیں کرتا حتیٰ کہ وہ وضو کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 2(135)، الحیل 2 (6954)، صحیح مسلم/الطھارة 2 (225)، سنن الترمذی/الطھارة 56 (76)، (تحفة الأشراف: 14694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/318) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (135) صحيح مسلم (225)
حدیث نمبر: 102
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، قَالَ: وَذَكَرَ رَبِيعَةُ، أَنَّ تَفْسِيرَ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ"، أَنَّهُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ وَيَغْتَسِلُ، وَلَا يَنْوِي وُضُوءًا لِلصَّلَاةِ وَلَا غُسْلًا لِلْجَنَابَةِ.
عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں کہ ربیعہ نے ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه» کی تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرے لیکن نماز کے وضو اور جنابت کے غسل کی نیت نہ کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 102]
جناب ربیعہ رحمہ اللہ (ربیعہ الرأي ایک تابعی اور مفتی مدینہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”جو شخص وضو کے شروع میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں۔“ کی شرح میں کہا ہے کہ ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرتا ہے اور وضو سے نماز کی اور غسل سے طہارت کی نیت نہیں کرتا (ایسے شخص کا وضو اور غسل درست نہ ہو گا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18635) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن وهب المصري مدلس (طبقات ابن سعد: 518/7،الفتح المبين: ص 25) و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن وهب المصري مدلس (طبقات ابن سعد: 518/7،الفتح المبين: ص 25) و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16