سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
200. باب من قال يتم على أكبر ظنه
باب: غالب گمان کے مطابق رکعات پوری کرے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1031
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ" وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ".
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے (دو سجدے کرے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1031]
جناب زہری کا بھتیجا (محمد بن عبداللہ) راوی ہے کہ محمد بن مسلم (زہری) نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ (سجدے کرے) ”جبکہ وہ بیٹھا ہوا ہو، سلام سے پہلے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 15256) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1030)
انظر الحديث السابق (1030)
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں (سجدوں) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہو جائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1026]
جناب عطاء بن یسار (تابعی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ رہے کہ کتنی نماز پڑھی ہے، تین یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت پڑھے اور دو سجدے کرے جبکہ وہ بیٹھا ہوا ہو، سلام سے پہلے۔ اگر اس کی یہ رکعت پانچویں ہوئی تو ان سجدوں کے ساتھ مل کر دوگانہ ہو جائے گی اور اگر چوتھی ہی ہوئی تو یہ سجدے شیطان کی رسوائی کا باعث ہوں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1024)، (تحفة الأشراف: 4163، 19091) (صحیح)» (یہ حدیث بھی حدیث نمبر: (1024) کی طرح مرفوع اور متصل ہے، اس میں امام مالک نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جان بوجھ کر حذف کر دیا ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد عند ابن عبد البر في التمھيد (5/20 وسنده صحيح)
وللحديث شواھد عند ابن عبد البر في التمھيد (5/20 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَعْمَرٌ، وَاللَّيْثُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1030]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس پر خلط ملط کر دیتا ہے (یعنی بھلوا دیتا ہے) حتیٰ کہ اسے معلوم نہیں رہتا کہ کس قدر نماز پڑھی ہے، تو تم میں سے کوئی جب یہ کیفیت محسوس کرے تو چاہیے کہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابن عیینہ، معمر اور لیث نے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، والعمل فی الصلاة 18 (1222)، والسھو 6 (1231)، 7 (1232)، وبدء الخلق 11 (3285)، صحیح مسلم/الصلاة 8 (389)، والمساجد 19 (570)، سنن النسائی/الأذان 30 (671)، (تحفة الأشراف: 15244)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 179 (397)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 135 (1216)، موطا امام مالک/السہو 1(1)، مسند احمد (2/313، 398، 411، 460، 503، 522، 531) وتقدم برقم (516) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1232) صحيح مسلم (389 بعد ح 569)
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ".
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1032]
ابن اسحاق رحمہ اللہ راوی ہیں کہ محمد بن مسلم زہری رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور کہا: ”سلام سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 135 (1216)، (تحفة الأشراف: 15252) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (1216) ورواه البيھقي (2/339) قال معاذ علي زئي: وله شاھد حسن لذاته عند أحمد (3/ 72 ح 11689، وسنده حسن) ولفظه: ’’إذا شك أحدكم في صلاته، فلم يدر كم صلي، فليبن علي اليقين، حتي إذا استيقن أن قد أتم، فليسجد سجدتين قبل أن يسلم…‘‘
أخرجه ابن ماجه (1216) ورواه البيھقي (2/339) قال معاذ علي زئي: وله شاھد حسن لذاته عند أحمد (3/ 72 ح 11689، وسنده حسن) ولفظه: ’’إذا شك أحدكم في صلاته، فلم يدر كم صلي، فليبن علي اليقين، حتي إذا استيقن أن قد أتم، فليسجد سجدتين قبل أن يسلم…‘‘