🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
236. باب الاحتباء والإمام يخطب
باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگ گوٹ مار کر نہ بیٹھیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ:"شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجَمَّعَ بِنَا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِينَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَشُرَيْحٌ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ،وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ.
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1111]
جناب یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر تھا۔ انہوں نے ہمیں جمعہ پڑھایا۔ میں نے دیکھا کہ مسجد میں حاضرین کی اکثریت اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔ میں نے انہیں دیکھا کہ امام خطبہ دے رہا تھا اور وہ احتباء کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اثنائے خطبہ میں احتباء کی حالت میں بیٹھا کرتے تھے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور شریح، صعصعہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جناب عبادہ بن نسی رحمہ اللہ (تابعی) کے علاوہ مجھے کسی کے متعلق معلوم نہیں ہوا کہ انہوں نے اس طرح بیٹھنے کو مکروہ کہا ہو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان بن عبد اللّٰه بن الزبرقان : لين الحديث (تقريب التهذيب: 2578)
وأثر ابن عمر أخرجه البيهقي (35/3) بإسناد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ۱؎ (گوٹ مار کر بیٹھنے سے) منع فرمایا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1110]
سہل بن معاذ بن انس رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے روز جب امام خطبہ دے رہا ہو «حبوة» (بیٹھنے کی ایک صورت) سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 253 (الجمعة 18) (514)، (تحفة الأشراف: 11299)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حبوۃ (گوٹ مار کر بیٹھنے) کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، اور انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے، اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ بنا لے۔
۲؎: اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند زیادہ آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے، بسا اوقات وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور آدمی کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1393)
أخرجه الترمزي (514 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں