🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
249. باب خروج النساء في العيد
باب: عید میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيَّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ:" وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ" وَلَمْ يَذْكُرْ: الثَّوْبَ، قَالَ: وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ امْرَأَة تُحَدِّثُهُ، عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى، قَالَتْ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ.
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1137]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے یہی حدیث بیان کی، (محمد بن سیرین نے) کہا: اور ایام والی خواتین نماز کے مقام سے الگ رہیں اور کپڑے کا ذکر نہیں کیا۔ اور (حماد نے بواسطہ ایوب) حفصہ بنت سیرین سے، انہوں نے ایک خاتون سے، انہوں نے ایک دوسری خاتون سے روایت کیا، کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور کپڑے کے بارے میں موسیٰ بن اسماعیل کی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ" قِيلَ: فَالْحُيَّضُ؟ قَالَ:" لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ:" تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن (عید گاہ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1136]
سیدنا محمد بن سیرین رحمہ اللہ، سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ پردے میں بیٹھی ہوئی عورتوں کو بھی عید کے دن ساتھ لے جائیں۔ پوچھا گیا: جو ایام میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ ایک عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اگر کسی کے پاس (پردے کے لیے) چادر نہ ہو تو وہ کیسے کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی سہیلی اسے اپنی چادر کا ایک حصہ اوڑھا دے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (974)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، والجھاد 48 (1812)، سنن الترمذی/الصلاة 271 (539)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضہ 22 (390)، والعیدین 2 (1559)، 3 (1560)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: (18095، 18101، 18110، 18112، 18114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 223 (1650) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ،عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَتْ: وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ.
اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1138]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا اور یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ حیض والیاں لوگوں کے پیچھے ہوں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1136، (تحفة الأشراف: 18095، 18114، 18128) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدین میں عورتوں کو لے جانا سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (971) صحيح مسلم (890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں