سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صلاة الضحى
باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ".
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1287]
جناب سہل بن معاذ بن انس جہنی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے اور ضحیٰ (چاشت) کی دو رکعتیں پڑھ کر اٹھے اور اس دوران میں خیر ہی کی بات کرے تو اس کی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439) (ضعیف)» (اس کے راوی زبَّان ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زبان : شيخ صالح زاهد،ضعيف من جهة حفظه وتكلموا في حديثه عن سهل بن معاذ أيضًا وقال ابن حجر في التقريب (1985) : ’’ زبان ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته ‘‘ و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 105/10)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
إسناده ضعيف
زبان : شيخ صالح زاهد،ضعيف من جهة حفظه وتكلموا في حديثه عن سهل بن معاذ أيضًا وقال ابن حجر في التقريب (1985) : ’’ زبان ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته ‘‘ و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 105/10)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
حدیث نمبر: 1294
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا" فَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1294]
جناب سماک کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں بہت زیادہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں فجر کی نماز ادا فرماتے وہاں سے اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا۔ جب (سورج) طلوع ہو جاتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 52 (670)، والفضائل 17 (2322)، سنن النسائی/السھو 99 (1359، 1358)، (تحفة الأشراف: 2155)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 295 (585)، مسند احمد (5/91، 97، 100، 01 1، 105، 107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (670)