سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صلاة الضحى
باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1290
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ" صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُدُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَى" فَذَكَرَ مِثْلَهُ. قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى بِمَعْنَاهُ".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1290]
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی آٹھ رکعات پڑھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔“ احمد بن صالح نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چاشت کی نماز پڑھی“ اور اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح نے کہا کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے“، اور نماز چاشت کا نام نہیں لیا (بلکہ ویسے ہی کہا کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں) سابقہ حدیث کے معنی میں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 172 (1323)، (تحفة الأشراف: 18010) (ضعیف)» (اس کے راوی عیاض ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی صلاة الضحیٰ کی حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (1323 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند البخاري (280)
أخرجه ابن ماجه (1323 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند البخاري (280)
حدیث نمبر: 1291
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ".
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1291]
جناب ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے خبر نہیں دی کہ اس نے دیکھا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چاشت پڑھی، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں (اس کے سوا) اور کسی نے نہیں دیکھا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعات پڑھی ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 12 (1103)، والتھجد 31 (1176)، والجزیة 9 (3171)، والغازي 50 (4292)، والآدب 94 (6151)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/الصلاة 15 (474)، سنن النسائی/الطہارة 143 (226)، (تحفة الأشراف: 18007)، وقد أخرجہ: الحیض 16 (336)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 187 (1323)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/341، 342، 343، 423)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1493) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1103) صحيح مسلم (336 بعد ح 719)