سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب في كم يقرأ القرآن ؟
باب: قرآن کتنے دنوں میں ختم کیا جائے؟
حدیث نمبر: 1390
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ:" فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يُرَدِّدُ الْكَلَامَ أَبُو مُوسَى وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ”ایک ماہ میں“، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سات دن میں ختم کیا کرو“، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: ”وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1390]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مہینے میں۔“ انہوں نے کہا: ”میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔“ ابوموسیٰ (ابن مثنیٰ) نے یہ جملہ بار بار دہرایا۔ یعنی انہوں نے اس مدت میں کمی چاہی۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات دنوں میں پڑھو۔“ انہوں نے کہا: ”میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا، اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8951) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا صحیح نہیں، بہتر یہ ہے کہ سات دن میں ختم کیا جائے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ رمضان میں شبینہ وغیرہ کا جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الترمذي (2949 وسنده صحيح) وابن ماجه (1347 وسنده صحيح) ورواه الشعبة عن قتادة به (مسند أحمد 2/195)
أخرجه الترمذي (2949 وسنده صحيح) وابن ماجه (1347 وسنده صحيح) ورواه الشعبة عن قتادة به (مسند أحمد 2/195)
حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ"، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي عَشْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو“، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بیس دن میں پڑھا کرو“، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پندرہ دن میں پڑھا کرو“، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو دس دن میں پڑھا کرو“، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم (مسلم بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1388]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”قرآن کریم کو ایک مہینے میں ختم کیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیس دنوں میں ختم کیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پندرہ دنوں میں ختم کیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت پاتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس دنوں میں ختم کیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”مجھے اس سے بھی زیادہ کی ہمت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات دن میں ختم کیا کرو اور اس سے کم ہرگز نہ کرنا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مسلم بن ابراہیم کی روایت زیادہ کامل ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ فضائل القرآن 34 (5053، 5054)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8962)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القراء ات 13 (2946)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178(1346)، مسند احمد (2/163، 199)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 32 (3514) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5054) صحيح مسلم (1159)
حدیث نمبر: 1391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ خَالُ عِيسَى بْنِ شَاذَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا الْحَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي ثَلَاثٍ"، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: عِيسَى بْنُ شَاذَانَ كَيِّسٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو“، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تین دن میں پڑھا کرو“۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1391]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو۔“ انہوں نے کہا: ”مجھ میں (اس سے زیادہ کی) طاقت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین روز میں مکمل پڑھا کرو۔“ ابوعلی لؤلؤی (راوی سنن ابوداؤد) کہتے ہیں: ”میں نے امام ابوداؤد رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ عیسیٰ بن شاذان دانا آدمی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8623) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شاھد عند أحمد (2/188 وسنده قوي)
وله شاھد عند أحمد (2/188 وسنده قوي)
حدیث نمبر: 1394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1394]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/القراء ات 13 (2949)، ن الکبری/ فضائل القرآن (8067)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178 (1347)، (تحفة الأشراف:8950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 165، 189، 195)، دی/ فضائل القرآن 32 (3514) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2201)
سعيد بن ابي عروبه تابعه شعبة عند الدارمي (1534، نسخه أخري: 1517 وسنده صحيح / معاذ علي زئي)
مشكوة المصابيح (2201)
سعيد بن ابي عروبه تابعه شعبة عند الدارمي (1534، نسخه أخري: 1517 وسنده صحيح / معاذ علي زئي)
حدیث نمبر: 1395
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؟ قَالَ:" فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا" ثُمَّ قَالَ:" فِي شَهْرٍ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي عِشْرِينَ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي خَمْسَ عَشْرَةَ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي عَشْرٍ"، ثُمَّ قَالَ:" فِي سَبْعٍ" لَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس دن میں“، پھر فرمایا: ”ایک ماہ میں“، پھر فرمایا: ”بیس دن میں“، پھر فرمایا: ”پندرہ دن میں“، پھر فرمایا: ”دس دن میں“، پھر فرمایا: ”سات دن میں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1395]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کتنے دنوں میں قرآن پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس دنوں میں۔“ پھر فرمایا: ”ایک مہینے میں۔“ پھر کہا: ”بیس دنوں میں۔“ پھر کہا: ”پندرہ دنوں میں۔“ پھر کہا: ”دس دنوں میں۔“ پھر کہا: ”سات دنوں میں۔“ اور سات سے کم نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ القراء ات 13 (2947)، ن الکبری/ فضائل القرآن (8068، 8069)، (تحفة الأشراف:8944) (صحیح)» (اِس روایت میں وارد لفظ «لم ینزل من سبع» شاذ ہے جو خود ان کی روایت (نمبر 1391) کے برخلاف ہے جس میں تین دن بھی وارد ہوا ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله لم ينزل من سبع شاذ لمخالفته لقوله اقرأه في ثلاث
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2947 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (2947 وسنده حسن)