🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما يقرأ في الوتر
باب: وتر میں کون سی سورۃ پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1424
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ:" وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و الْمُعَوِّذَتَيْنِ".
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اور کہا تیسری رکعت میں آپ «قل هو الله أحد» اور معوذتین (یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس») پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1424]
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں کیا پڑھا کرتے تھے؟ تو مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور کہا: تیسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 223 (الوتر 9) (463)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 115 (1173)، (تحفة الأشراف:16306)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/227) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ عبدالعزیز ابن جریج کی ملاقات عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (463) ابن ماجه (1173)
خصيف ضعيف،ضعفه الجمهور،وله شاهد حسن لذاته عند ابن حبان (2423) دون قوله: ’’والمعوذتين‘‘ انظر مشكوة المصابيح (1/ 420 ح 1269)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ، قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ: فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ،" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں (ابن جواس کی روایت میں ہے جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں) وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، وبارك لي فيما أعطيت، وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك، وإنه لا يذل من واليت، ولا يعز من عاديت، تباركت ربنا وتعاليت» ۱؎۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1425]
ابواسحاق نے برید بن ابی مریم سے، انہوں نے ابوالحوراء سے روایت کی کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کلمات تعلیم فرمائے جنہیں میں وتر میں کہا کروں۔ (استاد) ابن جواس کے لفظ ہیں میں انہیں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں۔ اور وہ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» اے اللہ! جن لوگوں کو تو نے ہدایت دی ہے مجھے بھی ان کے ساتھ ہدایت دے، اور جن کو تو نے عافیت دی ہے مجھے بھی ان کے ساتھ عافیت دے (یعنی ہر قسم کی برائیوں اور پریشانیوں وغیرہ سے) اور جن کا تو والی (دوست اور محافظ) بنا ہے ان کے ساتھ میرا بھی والی بن، اور جو نعمتیں تو نے عنایت فرمائی ہیں ان میں مجھے برکت دے، اور جو فیصلے تو نے فرمائے ہیں ان کے شر سے مجھے محفوظ رکھ، بلاشبہ فیصلے تو ہی کرتا ہے، تیرے مقابلے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا، اور جس کا تو والی اور محافظ ہو وہ کہیں ذلیل نہیں ہو سکتا، اور جس کا تو مخالف ہو وہ کبھی عزت نہیں پا سکتا، بڑی برکتوں (اور عظمتوں) والا ہے تو اے ہمارے رب! اور بہت بلند و بالا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 224 (الوتر 9) (464)، سنن النسائی/قیام اللیل 42 (1746)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 117 (1178)، (تحفة الأشراف:3404)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/199، 200)، سنن الدارمی/الصلاة 214 (1632) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں نسائی کے حوالہ سے «وصلى الله على النبي محمد» کا اضافہ کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے، علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے فتاویٰ (۱/۶۶) میں لکھا ہے کہ قنوت وتر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرنا مناسب نہیں، علامہ البانی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ (۱۰۹۷) میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی ماہ رمضان میں امامت والی حدیث میں ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قنوت وتر کے آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجتے تھے نیز اسی طرح اسماعیل قاضی کی فضل صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (۱۰۷) وغیرہ میں ابو سلمہ معاذ بن حارث انصاری سے عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں تراویح کی امامت میں قنوت وتر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1273)
أبو إسحاق تابعه ابنه يونس عند أحمد (1/ 199 ح 1718، وسنده صحيح) ويونس برئ من التدليس، وصححه ابن خزيمة (1096 وسنده صحيح، 1095)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1430
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ الْأَيَامِيِّ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوِتْرِ، قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر میں سلام پھیرتے تو «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1430]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر سے سلام پھیرتے تو کہتے: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» پاک ہے وہ ذات جو حاکم مطلق ہے اور ہر اعتبار سے پاک ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 48 (1733)، (تحفة الأشراف:55) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1274)
أخرجه النسائي (1735 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں