🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب القنوت في الصلوات
باب: فرض نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1443
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں «سمع الله لمن حمده» کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی سلیم کے قبائل: رعل، ذکوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1443]
جناب عکرمہ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان منقول ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ متواتر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت پڑھی، ہر نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہنے کے بعد بنو سلیم میں سے رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بد دعا کرتے تھے اور آپ کے پیچھے والے آمین کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:6234)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/301) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1290)
صححه ابن خزيمة (618 وسنده حسن) ثابت بن يزيد سمع من ھلال بن خباب قبل اختلاطه، وللحديث شواهد عند الدارقطني (2/37 ح 1671) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1442
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ:" اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے: «اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں پڑا تھا)۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ (اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ) آ چکے ہیں؟۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1442]
جناب ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مہینے تک قنوت پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قنوت میں یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ! ضعیف مومنین کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی سزا سخت کر دے۔ اے اللہ! ان پر قحط مسلط کر دے جیسا کہ قوم یوسف پر آیا تھا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا نہ کی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا دیکھتے نہیں کہ وہ آ گئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین (675)، (تحفة الأشراف:15387)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 128 (804)، والاستسقاء 2 (1006)، والجہاد 98 (2932)، والأنبیاء 19 (3386)، وتفسیر آل عمران 9 (4560)، وتفسیر النساء 21 (4598)، والدعوات 58 (6393)، والإکراہ 1 (6940)، والأدب 110 (6200)، سنن النسائی/التطبیق 27 (1074)، سنن ابن ماجہ/الاقامة 145 (1244)، مسند احمد (2/239، 255، 271، 418، 470، 507، 521) (صحیح) دون قولہ: ’’فذکرت“» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م خ دون قوله فذكرت
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (675)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1445
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا، ثُمَّ تَرَكَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1445]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت پڑھی، پھر چھوڑ دی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 54 (678)، (تحفة الأشراف:235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/184، 249) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (677)
مشكوة المصابيح (1291)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں