سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التعريف باللقطة
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1712
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ، وقَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ:" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، خُذْهَا قَطُّ"، وَكَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ، وَ يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَخُذْهَا".
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو“۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے پکڑے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1712]
عمرو بن شعیب نے اسی سند سے روایت کیا اور گمشدہ بکری کے سلسلے میں کہا: ”یہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے، اسے لے لے اور بس۔“ اور اسی طرح اس روایت میں ایوب اور یعقوب بن عطاء نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «فَخُذْهَا» ”پس تو اسے لے لے“ کا لفظ بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ قطع السارق 8 (4960)، (تحفة الأشراف:8755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
رواه النسائي (4960 وسنده حسن) وانظر الحديثين السابقين (1710، 1711)
رواه النسائي (4960 وسنده حسن) وانظر الحديثين السابقين (1710، 1711)
حدیث نمبر: 1711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ، بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ، قَالَ:" فَاجْمَعْهَا".
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1711]
عمرو بن شعیب نے اپنی اسی (مذکورہ بالا) سند سے اس حدیث کو روایت کیا اور گمشدہ بکری کے بارے میں اس کے لفظ ہیں «فَاجْمَعْهَا» یعنی ”اسے اپنی بکریوں کے ساتھ ملا لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحدود 28 (2596)، (تحفة الأشراف:8812) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وانظر الحديث السابق (1710)
وانظر الحديث السابق (1710)
حدیث نمبر: 1713
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ:" فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا".
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آ جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1713]
ابن اسحاق، عمرو بن شعیب سے، وہ (عمرو) اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کرتے ہیں تو ان کے لفظ ہیں: «فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيُهَا» ”اس کو اپنے مال کے ساتھ ملا لے حتیٰ کہ اس کا متلاشی آ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1708)، (تحفة الأشراف:8784) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (1710)
انظر الحديث السابق (1710)