سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب إذا شك في الحدث
باب: جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 177
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحْدِثْ فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے، اور اسے شبہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 177]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو اور اپنی دبر میں کوئی حرکت محسوس کرے، آیا ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں اور اسے شبہ ہو گیا ہو تو نماز چھوڑ کر نہ جائے حتیٰ کہ آواز سنے یا بو محسوس کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، تحفة (12629)، (تحفة الأشراف: 12629)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 26 (362)، سنن الترمذی/الطھارة 56 (75)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 74 (516)، مسند احمد (4/414)، سنن الدارمی/الطھارة 47 (748) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (362)
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُبَيِّ خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" لَا يَنْفَتِلْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا".
عباد بن تمیم کے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے (کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 176]
جناب عباد بن تمیم اپنے چچا (سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ ایک شخص دوران نماز میں (پیٹ میں) کچھ (حرکت) محسوس کرتا ہے اور اسے خیال آتا ہے (کہ شاید ہوا نکلی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز چھوڑ کر نہ جائے حتیٰ کہ (ہوا نکلنے کی) آواز سنے یا بو محسوس کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 4 (137)، 34 (177)، البیوع 5 (2056)، صحیح مسلم/الطہارة 26 (361)، سنن النسائی/الطھارة 115 (160)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 74 (513)، (تحفة الأشراف: 5296)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/39، 40) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (137) صحيح مسلم (361)
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ".
علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں ہوا خارج ہو جائے تو وہ نماز چھوڑ کر چلا جائے، پھر وضو کرے، اور نماز کا اعادہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 205]
سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے دوران میں جو کوئی پھسکی مارے (یعنی بغیر آواز کے اس کے مقعد سے ہوا خارج ہو) تو چاہیے کہ وہ (نماز چھوڑ کر) چلا جائے، وضو کرے اور نماز دہرائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه: سنن ترمذي/كتاب الرضاع/ باب ما جاء فى كراهية إتيان النساء فى أدبارهن/ ح: 1166، 1164 من حديث عاصم الأحول به وقال: ”حسن“، وصححه ابن حبان (موارد)، ح: 203، 204، 1301، سنن النسائي/الكبري، عشرة النساء (9025)، (تحفة الأشراف: 10344)، وقد أخرجه: سنن الدارمي/الطهارة 114 (1181)، مسند احمد (1/86) ويأتي عند المؤلف برقم: 1005 (ضعيف)» اس کے دو راوی عیسیٰ اور مسلم «لَيِّن الحديث» ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (314، 1006)
مشكوة المصابيح (314، 1006)
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ".
علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دوران نماز بغیر آواز کے ہوا خارج ہو تو وہ (نماز) چھوڑ کر چلا جائے اور وضو کرے اور نماز دہرائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 1005]
سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں پھسکی مارے، (ہوا خارج کرے) تو چاہیے کہ نماز توڑ دے اور وضو کرے اور اپنی نماز دہرائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:205، (تحفة الأشراف: 10344) (ضعیف)» (اس کے راوی عیسیٰ اور مسلم دونوں لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: علی بن طلق رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحت کے اعتبار سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے زیادہ راجح ہے جو کتاب الطہارۃ میں آئی ہے اور جس میں ہے: «من أصابه قيء في صلواته أو رعاف فإنه ينصرف ويبني على صلاته» کیونکہ اگرچہ علی بن طلق اور عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں کی روایتوں میں کلام ہے لیکن علی بن طلق رضی اللہ عنہ کی روایت کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو کسی نے صحیح نہیں کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (205)
انظر الحديث السابق (205)