سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب الرخصة في ذلك
باب: عضو تناسل چھونے سے وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 182
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ،" مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ؟ أَوْ قَالَ: بَضْعَةٌ مِنْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وشعبة، وابن عيينة، وجرير الرازي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے“، یا کہا: ”ٹکڑا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 182]
قیس بن طلق اپنے والد (طلق رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ایک آدمی آیا وہ بظاہر بدوی (دیہاتی) تھا، کہنے لگا: ”اے اللہ کے نبی! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے وضو کے بعد اپنے ذکر کو ہاتھ لگا لیا ہو؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے!“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ہشام بن حسان، سفیان ثوری، شعبہ، ابن عیینہ اور جریر رازی نے محمد بن جابر سے، انہوں نے قیس بن طلق سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 62 (85)، سنن النسائی/الطھارة 119 (165)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 64 (483)، (تحفة الأشراف: 5023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/22، 23) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کی دلیل ہے، جب کہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عضو تناسل کے مس (چھونے) کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں،اس لئے علماء نے ان دونوں کے درمیان تطبیق و توفیق کی صورت یہ نکالی ہے کہ عضو تناسل پر پردہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور پردہ نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ طلق بن علی کی حدیث کے الفاظ «الرجل يمس ذكره في الصلاة» سے یہی مفہوم نکلتا ہے، دوسری صورت تطبیق کی یہ ہے کہ اگر شہوت کے ساتھ ہے تو ناقض وضو ہے بصورت دیگر نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (320)
وحقق ابن حبان وغيره بأنه حديث منسوخ
مشكوة المصابيح (320)
وحقق ابن حبان وغيره بأنه حديث منسوخ
حدیث نمبر: 181
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ؟، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کو کہتے سنا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا: اور عضو تناسل چھونے سے بھی (وضو ہے)، اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 181]
جناب عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، وہاں یہ موضوع چھڑ گیا کہ کس کس چیز سے وضو لازم آتا ہے؟ مروان نے کہا کہ شرمگاہ کو چھونے سے بھی (وضو لازم آتا ہے؟) عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ مروان نے کہا کہ مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو کوئی اپنے ذکر کو ہاتھ لگائے اسے چاہیے کہ وضو کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 61 (82)، سنن النسائی/الطھارة 118 (163)، الغسل 30 (445)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 63 (479)، موطا امام مالک/الطھارة 15(58)، (تحفة الأشراف: 15785)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/406، 407)، سنن الدارمی/الطھارة 50 (751) (صحیح)»
وضاحت: زیر نظر مسئلہ میں شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کی دونوں احادیث وارد ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ محدثین ان کے مابین تطبیق یہ دیتے ہیں کہ اگر براہ راست بغیر کسی حائل کے ہاتھ لگے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن درمیان میں کپڑا ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ یا اگر شہوانی جذبات کے تحت ہاتھ لگایا ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اس کے بغیر ہو تو نہیں ٹوٹتا۔ کچھ محدثین کے نزدیک زیر نظر حدیث (بسرہ بنت صفوان) دوسری حدیث (طلق) کی ناسخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (319)
وللحديث شواهد
مشكوة المصابيح (319)
وللحديث شواهد