سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب ما يلبس المحرم
باب: محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُحْرِمَةُ لَا تَنْتَقِبُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1826]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احرام والی عورت نہ نقاب لگائے اور نہ دستانے پہنے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7470)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/41) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الحديث السابق (1825) شاھد له
الحديث السابق (1825) شاھد له
حدیث نمبر: 1827
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَإِنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنْ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَحَبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ مُعَصْفَرًا أَوْ خَزًّا أَوْ حُلِيًّا أَوْ سَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصًا أَوْ خُفًّا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، إِلَى قَوْلِهِ:" وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ" وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث «وما مس الورس والزعفران من الثياب» تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1827]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو احرام میں ”دستانے پہننے اور نقاب لگانے سے منع فرمایا ہے، اور ایسے لباس سے بھی جسے ورس (ایک رنگ دار بوٹی) اور زعفران لگی ہو۔ ان کے علاوہ جو لباس اور رنگ چاہے پہن لے (یعنی) عصفر (زرد) رنگ ہو یا ریشم، یا زیور یا شلوار یا قمیص یا موزہ۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ، محمد بن اسحاق سے اور وہ نافع سے روایت کرتے ہیں مگر صرف اس حصے تک (یعنی) «وَمَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ» ”اور جسے ورس اور زعفران لگا ہو کپڑوں میں سے“ بعد والا حصہ یہ دونوں روایت نہیں کرتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 13 (1838تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 8405)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 18 (833)، مسند احمد (2/22، 32، 119) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2689)
مشكوة المصابيح (2689)