🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب في الرمل
باب: طواف میں رمل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1885
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ".
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے (واقعہ یہ ہے) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مر جائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تین پھیروں میں رمل کرو، اور یہ سنت نہیں ہے ۱؎، میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1885]
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں رمل کیا تھا اور یہ کہ یہ سنت ہے۔ تو وہ بولے: انہوں نے سچ کہا ہے اور کچھ غلط۔ میں نے کہا: (کیا مطلب) کیا سچ کہا اور کیا غلط؟ فرمایا: یہ تو سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا تھا، مگر سنت کہنا غلط ہے۔ درحقیقت قریش نے حدیبیہ کے زمانے میں کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ خود ہی جانوروں کی موت مر جائیں گے۔ (جیسے اونٹوں کی ناکوں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں اور پھر وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔) پھر جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کر لی کہ یہ لوگ اگلے سال آئیں اور مکہ میں تین دن ٹھہریں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مشرکین کوہ قعیقعان کی جانب (سے دیکھ رہے) تھے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: بیت اللہ کے گرد تین چکر رمل کرو۔ (یعنی کندھے ہلا ہلا کر آہستہ آہستہ دوڑو) اور یہ کوئی سنت نہیں ہے۔ میں نے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کی سعی اونٹ پر سوار ہو کر کی تھی اور یہ بھی سنت ہے۔ تو وہ بولے: انہوں نے سچ کہا ہے اور کچھ غلط۔ میں نے کہا: کیا سچ ہے اور کیا غلط؟ فرمایا: سچ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کی سعی اونٹ پر کی تھی مگر یہ سنت ہو، غلط ہے۔ (دراصل) لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور نہ کیا جاتا تھا اور نہ ہٹایا جاتا تھا (جب کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کیے ہوئے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکیں اور ان کے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچ پائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 39 (1264)، (تحفة الأشراف: 5776)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 29 (2953)، مسند احمد (1/ 229، 233، 297، 298، 369، 372، 373) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مراد ایسی سنت نہیں ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقرب کے لئے بطور عبادت کی ہو، بلکہ مسلمانوں کو یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے دیا تھا تاکہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقتور اور توانا ہونے کا مظاہرہ کر سکیں، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کر رکھا ہے، لیکن بہرحال اب یہ طواف کی سنتوں میں سے ہے جس کے ترک پر دم نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (1264) بسند آخر عن أبي الطفيل به

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1886
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا قَالُوهُ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ رَمَلُوا، قَالُوا: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنَّا"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءً عَلَيْهِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ (طواف کعبہ کے) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1886]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے جبکہ ان لوگوں کو یثرب (مدینہ کا سابقہ نام) کے بخار نے کمزور کر دیا تھا تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے بخار نے نڈھال کر دیا ہے اور انہیں اس سے بڑی اذیت پہنچی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات سے جو انہوں نے کہی، اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: تین چکروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلیں۔ سو جب انہوں نے ان لوگوں کو رمل کرتے دیکھا (کہ بڑی پھرتی سے طواف کر رہے ہیں) تو کہنے لگے: انہی لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ ان کو بخار نے کمزور کر دیا ہے، یہ تو ہم سے زیادہ طاقتور ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ پر شفقت فرماتے ہوئے طواف کے سب چکروں میں رمل کا حکم نہیں دیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏* تخريج:صحیح البخاری/الحج 55 (1602)، والمغازي 44 (4256)، صحیح مسلم/الحج 39 (1266)، سنن النسائی/الکبری/ الحج (3942)، (تحفة الأشراف: 5438)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 39 (863)، مسند احمد (1/221، 255، 306،310، 311، 373) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ فی الواقع یہ لوگ کمزور اور دبلے پتلے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1602) صحيح مسلم (1266)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ يَرْمُلُونَ، تَقُولُ قُرَيْشٌ: كَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَانَتْ سُنَّةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا، اور تکبیر بلند کی، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، جب لوگ (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہو جاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے، قریش کہتے تھے: گویا یہ ہرن ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو یہ فعل سنت ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1889]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا (اپنی چادر کو اپنی دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیا)، پھر (حجرِ اسود کا) استلام کیا اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا، پھر تین چکروں میں رمل کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم جب رکنِ یمانی کے پاس پہنچتے اور قریش کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے تو عام رفتار سے چلنے لگتے، پھر جب ان کے سامنے آتے تو آہستہ آہستہ دوڑنے لگتے، قریش کہنے لگے: یہ تو گویا ہرن ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: (تب سے) یہ سنت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5777، 5779) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (2707 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (2953 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1891
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1891]
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا (یعنی پورے چکر میں) اور ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 39 (1262)، (تحفة الأشراف: 7906)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 63 (1616)، سنن النسائی/الحج 150 (2943)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، سنن ابن ماجہ/المناسک 29 (2950)، موطا امام مالک/الحج 34(108)، مسند احمد (2/100، 114)، سنن الدارمی/المناسک 27 (1882) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1262)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1893
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَيَمْشِي أَرْبَعًا ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1893]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرہ میں (مکہ میں) آتے ہی جو پہلا طواف (طواف قدوم) کرتے تو اس کے تین چکروں میں (آہستہ آہستہ) دوڑتے اور چار میں عام رفتار سے چلتے، پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الحج 63 (1616)، صحیح مسلم/ الحج 39 (1261)، سنن النسائی/ الحج 151 (2944)، (تحفة الأشراف: 8453)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/114) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1616) صحيح مسلم (1261)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3969
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔ (سورۃ البقرہ: ۱۲۴) (امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء) پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 3969]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورة البقرة کی آیت 125 یوں) قراءت فرمائی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ( «خَا» کے نیچے زیر کے ساتھ بصیغہ امر پڑھا) اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 3969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ الحج 33 (856)، سنن النسائی/ الحج 163 (2964)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1008)، انظر حدیث رقم: (1905)، (تحفة الأشراف: 2595) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (2964 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں