سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب الصلاة بجمع
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1928
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ. ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا"، قَالَ مَخْلَدٌ:" لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا".
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1928]
عثمان بن عمر رضی اللہ عنہ نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے زہری سے، یعنی امام احمد بن حنبل عن حماد کی سند سے، اور اس کے ہم معنی بیان کیا کہ ”ہر نماز کے لیے ایک اقامت کہی اور پہلی میں اذان نہیں دی اور نہ کسی کے بعد سنتیں پڑھیں۔“ مخلد نے کہا: ”ان میں سے ایک کے لیے اذان نہیں دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6923) (صحیح)» (اذان والا جملہ صحیحین میں نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں جابر کی روایت کے مطابق ایک اذان ثابت ہے، نیز ابن عمر رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (1933) میں اذان واقامت کی تصریح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون قوله لم يناد وهو الصواب
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1927)
انظر الحديث السابق (1927)
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ:" بِإِقَامَةٍ إِقَامَةِ جَمْعٍ بَيْنَهُمَا"، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ وَكِيعٌ:" صَلَّى كُلَّ صَلَاةٍ بِإِقَامَةٍ".
اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا۔ احمد کہتے ہیں: وکیع نے کہا: ہر نماز الگ الگ اقامت سے پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1927]
امام زہری رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کی اور کہا: ”ایک ایک اقامت سے ان دونوں نمازوں کو جمع کیا۔“ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: ”وکیع نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز (الگ) اقامت سے پڑھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الحج 96 (1673)، سنن النسائی/ الأذان 20 (661)، الحج 207 (3031)، (تحفة الأشراف: 6923)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/56، 157)، دی/ المناسک 52 (1926) (صحیح)» (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت والی روایت ہی صحیح ہے، جیسا کہ جابر کی طویل حدیث میں گزرا)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1673)