🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ،قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ رَجُلٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً، فَلَمْ يَزَلْ يَعْلُكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلَاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ".
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تمہاری ہانڈی پک گئی؟، اس نے جواب دیا: ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 193]
عبید بن ثمامہ مرادی نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ جو کہ اصحاب رسول میں سے تھے، ہمارے ہاں مصر میں تشریف لائے۔ میں نے انہیں وہاں مسجد میں حدیث بیان کرتے سنا، کہہ رہے تھے کہ مجھے یاد ہے کہ میں ایک شخص کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجلس میں ساتواں فرد تھا یا چھٹا تھا کہ بلال رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی تو ہم نکلے اور ایک شخص کے پاس سے گزرے، اس کی ہنڈیا آگ پر رکھی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری ہنڈیا تیار ہو گئی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان! تو آپ نے اس سے گوشت کی ایک بوٹی لی اور کھاتے ہوئے چلے گئے حتیٰ کہ نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5233) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کا راوی ”عبید بن ثمامہ“ لَیِّن الحدیث ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ثمامة: لا يعرف (الكاشف للذھبي: 3660)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 192]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پر پکی چیزوں کے استعمال سے وضو کرنا چھوڑ دیا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت پہلی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الطہارة 123 (185)، (تحفة الأشراف: 3047) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وصححه ابن خزيمة (43) وذكر الشافعي له علة – إن صحة – فالحديث حسن، وانظر أنوار السنن (168)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں